حیات قدسی

by Other Authors

Page 507 of 688

حیات قدسی — Page 507

حضرت اقدس علیہ السلام کی بارگاہ میں نظم خوانی کرم دین والے مقدمہ میں جب سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جہلم تشریف لے گئے تو اس موقع پر خاکسار کو بھی حضور اقدس کی بارگاہ میں جہلم حاضر ہونے کی توفیق ملی۔حضور علیہ السلام کی ایک مجلس میں حضرت مولوی محمد علی صاحب نے جو پنجابی کے شاعر تھے۔اپنی ایک نظم جو کامنوں کے طرز پر کہی گئی تھی۔سنائی۔اس نظم میں یہ فقرہ تکرار کے ساتھ آتا تھا۔سچیاں نال کر لائیں وے مالکا یعنی اے ہمارے مالک و آقا خدا ہمیں سچے لوگوں کے ساتھ ملانا۔اس نظم کے پڑھنے کے بعد میں نے حضرت مولوی صاحب سے عرض کیا کہ آپ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت اقدس علیہ السلام کی بیعت کر کے سچے لوگوں کے ساتھ مل چکے ہیں۔اس صورت میں اس دعائیہ فقرے کی ضرورت نہیں۔کیا آپ کو کوئی شبہ معلوم ہوتا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپ کے خیال میں کس طرح لکھنا چاہیئے۔میں نے عرض کیا کہ ایک احمدی کو جو ایمان کی نعمت سے سرشار ہو چکا ہے، یہ اعلان کرنا چاہیئے کہ مسیح موعود اور امام مہدی آچکے ہیں۔میں سب لوگوں کو بشارت دیتا ہوں کہ آؤ اور اس موعود کو قبول کرو۔اس کے بعد میں نے وہاں جہلم میں ہی اس مضمون کو مد نظر رکھ کر ایک نظم لکھی۔اور ۱۹۰۳ء میں قادیان مقدس میں سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور بعد نماز مغرب سنائی۔اس میں مندرجہ ذیل مصرعہ کا تکرار ہوتا تھا۔آیا نی آیا مهدی عیسی محمدی آیا اور غالباً ایک بنداس طرح تھا:۔باپ کے دادے ساڑے چنگ چنگیرے مهدی اڈیکدیاں لدے سویرے کیسے نوں تکدے گئے بھلیرے کسے وقت پایا آیا نی آیا مهدی عیسی محمدی آیا