حیات قدسی

by Other Authors

Page 502 of 688

حیات قدسی — Page 502

۵۰۲ میری تقریر سب سے پہلے رکھی گئی۔جب میں اپنی نشست گاہ سے اٹھ کر سٹیج کی طرف گیا تو میری سادگی لباس کو دیکھ کر منتظمین جلسہ نے بہت فکر محسوس کیا کیونکہ مسلمانوں میں سے صرف میری ہی تقریر تھی اور میری وضع قطع سے بظا ہر جلسہ کی کامیابی نظر نہ آتی تھی۔میں نے سٹیج پر پہنچ کر اونچی آواز سے کلمہ شہادت اور سورہ فاتحہ پڑھ کر اپنی تقریر شروع کی۔شروع میں بعض تمہیدی باتیں بیان کیں اور پھر کرشن جی مہاراج کے سوانح حیات کے ظاہری واقعات کے متعلق جو اعتراض کی صورت پیدا ہوتی ہے، اس کے جواب دیئے۔مثلاً یہ بتایا کہ کرشن جی ایشور کے مقدس اوتار اور مقدس ہستی تھے۔ان کی طرف بعض باتیں منسوب کر کے جو اعتراض ان کی ذات اور اخلاق پر کئے جاتے ہیں۔وہ حقیقتا قابل اعتراض نہیں۔محجوب نگاہیں ان کو قابل اعتراض سمجھتی ہیں۔دراصل ایسے واقعات اپنے اندر معرفت اور حکمت رکھتے ہیں۔کرشن جی مہاراج کا گائیوں کو چرانا اور بنسری بجانے کا یہ مطلب ہے کہ گائیوں سے مراد مفید، و کارآمد اور غریب طبع لوگ ہیں۔اور کرشن جی ایسے لوگوں کی رکھشا کیا کرتے تھے۔اور ان کی پرورش کی وجہ سے گو پال کہلاتے ہیں۔کرشن جی کی بنسری سے مراد ان کی الہامی کتاب گیتا ہے۔اور بنسری بجانے سے مراد اللہ تعالیٰ کا کلامِ معرفت لوگوں کو سنانا ہے۔گیتا کا لفظ گیت سے ہی ہے۔یعنی ایسا کلام جو سریلی آواز سے گایا جاتا ہے۔جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کی الہامی کتاب کا نام زبور رکھا گیا ہے اور زبور اور گیتا کا ایک ا ہی مفہوم ہے اور قرآن کریم میں آیت مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَإِلَّا وَحْيٌ يُوحَى 24 میں اسی طرح اشارہ پایا جاتا ہے۔کہ جس طرح بنسری میں سے وہی سر نکلتی ہے جو بنسری بجانے والا نکالتا ہے۔اسی طرح خدا کے نبی وہی کلام کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ ان کی زبان پر جاری کرتا ہے اور اپنی وحی سے ان کو تعلیم کرتا ہے۔اسی مضمون کو حضرت مولنا روم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مثنوی میں اس طرح ادا کیا ہے کہ بشنواز کے چوں حکایت می کند واز جدائی ہا شکایت می کند یعنی خدا کے اوتار اس کی بنسری ہوتے ہیں۔جن میں خدا تعالیٰ اپنی آواز پھونکتا ہے تا جولوگ خدا کے