حیات قدسی

by Other Authors

Page 501 of 688

حیات قدسی — Page 501

۵۰۱ ان سوالات کو سن کر پادری عبدالحق صاحب سخت گھبرا گئے۔اور بجائے جواب دینے کے غیر احمدی علماء کو کہنے لگے کہ میں نے اشتہار اور منادی میں قادیانی علماء کو مخاطب نہیں کیا بلکہ مسلمان علماء کو مخاطب کیا ہے اور چونکہ مسلمان علماء میرے مقابل پر نہیں آئے۔اس لئے وہ شکست خوردہ اور بھگوڑے ہیں اور فتح اور غلبہ مجھے نصیب ہوا ہے۔لہذا اب بحث کی ضرورت نہیں۔جلسہ برخواست کیا جاتا ہے۔ہم نے بار ہا یہ تجربہ کیا ہے کہ عیسائی احمدیوں کے مقابل پر آنے سے گھبراتے ہیں۔بالکل اسی طرح جیسے غیر احمدی علما ء اپنے گند اور زنگ آلود دلائل کے ساتھ پادریوں کے مقابل پر آنے سے گریز کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی جماعت کے پاس سید نا حضرت مسیح محمدی کے اسلحہ خانہ کے تیز وتند ہتھیار ہیں۔اور کسی بڑے سے بڑے عیسائی پادری کو یہ جرات نہیں کہ وہ اس آسمانی میگزین کے ہتھیاروں کا مقابلہ کر سکے۔اس زمانہ میں یہ باطل شکن دلائل صرف اور صرف سیدنا حضرت مسیح محمدی علیہ السلام کے خدام کو عطا کئے گئے ہیں۔اور عیسائی اور دوسرے معاندین اسلام ہر روز مقابلہ کے میدان میں پیچھے ہٹ رہے ہیں۔اور وہ دن دور نہیں جب اسلام کا سورج ایک دفعہ پھر اپنی درخشاں روشنی سے اکناف عالم کو منور کرے گا۔؎ إِنَّ الصَّلِيبَ سَيُكْسَرَنُ و يُدَقَّقَنُ جَاءَ الجِيَادُ وَ زَهَقَ وَقْتُ أَتَانِهِمُ سری کرشن جی کے سواخ پر تقریر ۱۹۴۱ء میں خاکسار مع عزیز مکرم مولوی محمد الدین صاحب مبلغ البانیہ سرینگر گیا۔ان دنوں کشمیری پنڈتوں نے سری نگر میں سری کرشن جی کے متعلق ایک جلسہ کا انعقاد کیا۔جس میں علاوہ ہندوؤں کے دوسرے مذاہب کے علماء کو بھی تقریر کرنے کی دعوت دی۔احمد یہ جماعت کی طرف سے خاکسار تقریر کے لئے مقرر ہوا۔لیکن غیر احمدی علماء کی طرف سے کوئی تقریر نہ ہوئی۔جلسہ کے منتظمین نے پروگرام اس طرح وضع کیا کہ غیر مذاہب کے مقررین کی تقاریر پہلے رکھی گئیں۔تا کہ ان تقاریر میں اگر کوئی حصہ قابل اعتراض ہو یا لائق جواب ہو تو بعد میں سناتنی ہندوؤں کی طرف سے اس کا جواب دیا جا سکے۔