حیات قدسی

by Other Authors

Page 468 of 688

حیات قدسی — Page 468

۴۶۸ خوشخطی کے ساتھ لکھی ہوئی تھی۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو ہماری ملاقات سے نا امید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فرشتے ہم پر کیوں نہیں اتارے جاتے۔یا ہم اپنے رب کو کیوں نہیں دیکھ لیتے۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان دونوں باتوں کا حاصل ہونا ناممکن نہیں۔اگر ان موانع اور روکوں کو اٹھا دیا جائے جو درمیان میں حائل ہیں۔ایسے لوگ جن کی طبائع میں کبر اور غرور ہے اور ان کی زندگی خودی ، خودروی ، خود بینی اور خودنمائی کے جذبات میں گذر رہی ہے۔اور وہ اپنے نفس کی مجو بانہ سرکشی میں مبتلا ہیں۔ان پر فرشتوں کا نزول نہیں ہوسکتا۔اور نہ ہی ان کو رَبُّ الْعَالَمِینَ کی رویت اور لقاء حاصل ہو سکتی ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کی ربوبیت کو جس کا وہ ہر دم محتاج ہے اپنے تمام اعضا قومی اور حواس کی پرورش اور ترقی میں مشاہدہ کرتا ہے اور اپنے بے نظیر خدا کے حسن واحسان کے جلوہ کو دیکھتا ہے۔اور اپنی خودی اور خود روی کو مٹا کر نفس کشی اختیار کرتا ہے تو وہ عبا د مگر مین میں شامل ہو جاتا ہے۔اُس پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور اسے اپنے قدوس مولا اور آقا کا دیدار نصیب ہوتا ہے۔اور وہ اپنے عقائد صحیحہ، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کے ذریعہ سے لمحہ بہ لمحہ ترقی کرتا جاتا ہے اور اس کے روحانی حواس تیز ہوتے جاتے ہیں۔فردوس کی آگ جن دنوں حضرت مفتی محمد صادق صاحب بغرض تبلیغ امریکہ کے لئے رخت سفر باندھ رہے تھے تو آپ بعض ضروری سامانوں کی خریداری کے لئے لاہور تشریف لائے۔ان ایام میں خاکسار حضرت میاں چراغ دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رئیس لاہور کے مکان ”مبارک منزل میں قرآن کریم کا درس دیا کرتا تھا۔ایک دن جب میں درس دے رہا تھا۔اور حضرت مفتی صاحب بھی حلقہ درس میں شامل تھے تو آپ پر کشفی حالت طاری ہو گئی۔اور آپ نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام بھی درس میں شامل ہیں۔اور بڑی توجہ سے درس سن رہے ہیں۔اس کشف کا ذکر حضرت مفتی صاحب نے اسی وقت احباب کے سامنے فرما دیا تھا۔جب حضرت مفتی صاحب امریکہ جاتے ہوئے رستہ میں لنڈن قیام پذیر ہوئے تو آپ نے وہاں پر ایک رؤیا دیکھی اور آپ کو عجیب الہامی الفاظ سے نوازا گیا۔آپ نے وہ رؤیا اور الہام مجھے تحریر فرمایا۔اور اس کی تعبیر بھی دریافت کی۔وہ رویا تو اب مجھے بھول گئی ہے لیکن الہام یاد ہے