حیات قدسی — Page 440
۴۴۰ یہ وہی عیدی تھی جو بحالت سجدہ نماز عید میں میں نے اپنے بچے کے لئے اپنے محسن مولیٰ سے مانگی تھی۔اور جو حضرت خیر الراحمین اور خیر انحسنین مولیٰ کریم کی فیاضانہ نوازش سے مجھے عطا فرمائی گئی تھی۔اس رقعہ کے پڑھنے سے مجھے اور بھی اس بات کا یقین ہوا کہ واقعی یہ رقم مجھے خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے بغیر کسی کے منت و احسان کے عطا ہوئی ہے۔اور میری روح جذبہ تشکرات سے بھر کر اپنے محسن خدا کے حضور ایک وجد نما جوش کے ساتھ جھک گئی۔میرے قلب میں اس مخلص دوست کی اس نیکی کا بھی بہت احساس ہوا اور میں نے اس کے لئے دعا کی کہ مولیٰ کریم اپنی کر مفر مائی سے اسے جزائے خیر دے۔اور اس کی آل اولا د اور نسل کو اپنے فیوض خاصہ سے نوازے۔میں نے وہ رقم عزیز اقبال احمد سلمہ کو بھجوا دی۔یہ سید نا حضرت مسیح پاک کی اعجاز نما برکت ہے کہ ایک طرف میرے جیسے حقیر خادم کو حضوڑ کے روحانی اور بابرکت تعلق سے دعا۔ہاں قبول ہونے والی دعا کی توفیق نصیب ہوئی۔اور پھر اس دعا کی استجابت کا اثر ایسے طور سے نمایاں ہوا۔جو احتیاج خلق سے بالا تر نظر آتا تھا۔اس قسم کا مخلصانہ عمل جس میں نمود و نمائش کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا دنیا بھر میں مشکل سے مل سکتا ہے ہاں صرف احمدی جماعت کے افراد میں پایا جاتا ہے یہاں تک کہ تحریک اخلاص وللہیت رقم کے عطیہ کے ساتھ رقعہ میں نام و پتہ تک کا نہ لکھنا حد درجہ کا اخلاص ہے۔لیکن یہ اخلاص کسی کی قوت قدسیہ اور روحانی کشش اور مؤثر توجہ سے پیدا ہوا۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایسا اخلاص اور بے ریا عمل میرے پیارے اور پاک مسیح ہاں میرے مولیٰ کے محبوب اور مصلح عالم مسی محمد مکی کی اعجازی برکات کا نمونہ ہے اور ایسے نمونے جماعت احمدیہ میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ احباب جماعت کے اخلاص اور ایمان میں برکت پر برکت دے۔ان کی زندگی اور موت رضاء الہی کے ماتحت ہو اور ان کے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کے قیام کی غرض پوری ہو۔امین یا رب العالمین ایک منذ رالهام ایک دفعہ خاکسار مرکزی ہدایت کے ماتحت ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں تبلیغ کی غرض سے مقیم تھا۔دورانِ قیام میں ایک خط حضرت مکرم و محترم تھی فی اللہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی طرف