حیات قدسی — Page 439
۴۳۹ چنداں تعارف اور شناسائی نہ تھی کہ کسی دوست سے قرض حاصل ہو سکتا۔صرف اللہ تعالیٰ کی خیر الراحمین اور خیر الحسنین اور واہب المواہب ذات پر بھروسہ تھا۔دوسرے دن احباب کی فرمائش پر میں نے نماز عید پڑھائی۔جب میں بحالت سجدہ دعا کر رہا تھا تو مجھ پر رقت طاری ہو گئی اور رقت کا باعث یہ امر ہوا کہ نماز سے پہلے بعض احمدی بچے جو اپنے باپوں کے ساتھ مسجد میں آئے ہوئے تھے۔اپنے اپنے باپ سے عیدی کے لئے کچھ طلب کرتے تھے اور ان کے باپ اپنے بچوں کو بقدر مناسب عیدی دے رہے تھے۔مجھے بحالت سجدہ دعا کی تحریک انہی بچوں کی عیدی طلب کرنے پر ہوئی اور ہے میں نے اپنے مولیٰ کے حضور عرض کیا کہ میرے مولا آج عید کا دن ہے، بچے اپنے اپنے والدین سے عیدی طلب کر رہے ہیں۔اور میرا بچہ بھی مجھ سے بذریعہ خط ایک سو روپیہ کی ضرورت پیش کر چکا ہے۔سو میں اپنے بچے کے لئے حضور کی خدمت میں اس رقم مطلوبہ کے متعلق ہاتھ پھیلاتا ہوں کہ میرے بچے کی شدید ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کوئی صورت محض اپنے فضل و کرم سے مہیا فرما دے۔تا اس پریشانی سے مخلصی حاصل ہو۔نماز عید ، کھانے اور نماز ظہر سے فارغ ہونے پر ہم نے مردان سے چارسدہ جانے کے لئے تیاری کی۔کیونکہ چارسدہ میں جماعت احمدیہ کے ہاں جانا بھی ہمارے پروگرام میں داخل تھا۔جب ہم مردان سے باہر ٹانگے پر سوار ہونے کے لئے احباب سے رخصت ہوئے تو کئی احباب ہماری مشایعت کے لئے اڈا تک آئے۔ان میں سے اچانک ایک صاحب جن کو اس وقت میں قطعاً نہ جانتا تھا، میرے پاس سے گذرے اور گذرتے ہوئے کوئی چیز میرے کوٹ کی بیرونی جیب میں ڈال دی۔جب ہم مردان سے سوار ہو کر چارسدہ پہنچے اور میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو مجھے ایک لفافہ ملا۔جس میں کوئی کاغذ ملفوف تھا۔جب میں نے لفافہ کو کھولا تو اس کے میں ایک صد روپیہ کا نوٹ تھا جس کے ساتھ ایک رقعہ بھی تھا۔جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آپ جب نماز عید پڑھا رہے تھے تو میرے قلب میں زور سے تحریک ہوئی کہ میں سو روپیہ کی رقم آپ کی خدمت میں پیش کروں۔لیکن اس طریق پر کہ آپ کو یہ پتہ نہ لگ سکے کہ یہ کس نے دی ہے۔اس لئے میں نے سو روپیہ کا نوٹ آپ کی جیب میں ڈال دیا ہے۔اور پتہ اور نام نہیں لکھا۔تا میرا عمل بھی مخلصانہ محض کا اللہ تعالیٰ کے علم تک رہے۔اور آپ کو بھی اس سوروپیہ کی رقم کا عطیہ اللہ تعالیٰ کی معطی اور محسن ہستی کی طرف سے ہی محسوس ہو۔