حیات قدسی — Page 438
۴۳۸ ام المومنین اعلیٰ اللہ درجاتہا کی بابرکت توجہ کا نتیجہ ہے۔ایک اور واقعہ عرصہ کی بات ہے کہ میں کسی کام کے لئے گھر سے نکلا۔بازار میں مجھے دفتر کا آدمی ملا۔اور اس نے بتایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قصر خلافت میں یاد فرمایا ہے۔میں سیدھا دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں پہنچا۔اور اپنے حاضر ہونے کی اطلاع حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھجوائی۔اتفاق سے اس وقت میرے پاس کوئی رقم نہ تھی۔میرے دل میں حضور کی خدمت میں خالی ہاتھ جانے سے انقباض محسوس ہوا۔چنانچہ میں نے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ایک کارکن سے مبلغ دس روپے بطور قرض لئے۔اور عند الملاقات حضور کی خدمت میں یہ حقیر رقم پیش کر دی۔جو حضرت نے از راہ نوازش کریمانہ قبول فرمالی۔جب میں ملاقات سے فارغ ہو کر نیچے دفتر میں آیا تو اتفاق سے ایک معزز احمدی وہاں آئے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ میں نے آپ کے گھر ملاقات کے لئے جانا تھا۔یہ خوشی کی بات ہے کہ یہیں پر ملاقات ہو گئی۔اور ایک بند لفافہ میرے ہاتھ میں دیا۔۔جس میں مبلغ یکصد روپیہ کے نوٹ تھے۔یہ رقم سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت وجود کا نشان تھا۔اللہ تعالیٰ سب انبیاء، خلفاء اور اصفیاء و اولیاء اور ان کی آل و اولاد پر اپنی بے شمار رحمتیں اور فضل تا ابد فر ما تار ہے۔آمین عیدی ۱۹۲۹ء میں ایک تبلیغی سفر کے سلسلہ میں مختلف مقامات سے ہوتا ہوا مردان شہر میں جو سرحدی علاقہ ہے پہنچا۔دوسرے دن عید الاضحیہ کی عید کا مبارک دن تھا۔مجھے وہاں جانے سے ایک دو دن پہلے عزیز اقبال احمد کی طرف سے ایک خط ملا تھا کہ آپ سفر پر ہیں اور مجھے کالج کی تعلیمی کتب اور فیس وغیرہ اخراجات کے لئے اس وقت کم از کم ایک سور و پیہ جلد از جلد ملنا از بس ضروری ہے۔میرا ورود مردان میں اس موقع پر پہلی دفعہ تھا۔وہاں کی جماعت احمدیہ کے احباب اور افراد سے قبل ازیں میرا