حیات قدسی

by Other Authors

Page 437 of 688

حیات قدسی — Page 437

۴۳۷ خدمت عالیہ میں لکھ کر آپ کا تحفہ سلام حضور کی خدمت میں عرض کر دیا اور اپنی رؤیا بھی بیان کر دی۔اس کے چند روز بعد مجھے پھر رویا میں حضرت شیخ صاحب کی زیارت ہوئی۔آپ نے سلام پہنچانے پر بہت ہی مسرت کا اظہار کیا۔اور میرے ہاتھ میں ایک کتاب دے کر فرمایا کہ یہ بطور ہدیہ ہے۔جب میں نے اس رسالہ کو دیکھا تو اس کے سرورق پر اس کا نام ” سراج الاسرار لکھا ہوا تھا۔فالحمد للہ علی ذالک برکت کا نشان جولوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے عظیم الشان نشان پائے جاتے ہیں۔میں نے اس قسم کے برکت کے نشان بارہا سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام، آپ کے خلفاء اور اہل بیت کے وجودوں میں ملاحظہ کئے ہیں۔مثال کے طور پر دو واقعات یہاں پر درج کرتا ہوں ورنہ واقعات تو بہت ہیں۔ایک دفعہ جب میں لاہور میں مقیم تھا۔اورمسجد احمد یہ میں بیٹھا ہوا تھا تو اچانک حضرت ام المومنین دامت برکا تہا و رضی اللہ تعالیٰ عنہا مسجد دیکھنے کے لئے وہاں تشریف لے آئیں۔حضرت قدسیہ کی آمد پر مجھے تحریک ہوئی کہ آپ کی خدمت میں کچھ رقم بطور نذرانہ پیش کروں۔لیکن اس وقت میری جیب میں صرف تین روپے نکلے۔مجھے یہ رقم بہت حقیر اور قلیل معلوم ہوئی۔لیکن مجبوراً اسی کو حضرت ممدوحہ کی خدمت بابرکت میں پیش کر دیا۔آپ نے اس کو خوشی سے قبول فرمایا اور جزاکم اللہ احسن الجزاء کہا۔مسجد دیکھنے کے بعد آپ حضرت میاں چراغ دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے گئیں۔ابھی آدھ گھنٹہ گذرا تھا کہ ایک معزز احمدی نے اپنا ملازم بھجوایا۔اور خواہش کی کہ میں ان کے گھر جا کر چائے پیوں۔جب میں چائے سے فارغ ہوا اور واپس آنے لگا تو انہوں نے میری جیب میں کچھ کاغذ ڈال دیئے۔میں نے خیال کیا کہ شاید دعا کے لئے انہوں نے کچھ لکھ کر میری جیب میں ڈالا ہے۔اور اس کو زبانی بیان کرنا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا۔لیکن جب میں نے وہ کاغذ نکال کر دیکھے۔تو دس دس کے تین نوٹ یعنی مبلغ تمہیں روپیہ تھے۔ان صاحب نے بتایا کہ ” تھوڑی دیر پہلے میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ آپ کو چائے پر بلاؤں اور آپ کی خدمت میں کچھ رقم پیش کروں۔میں نے یقین کر لیا کہ یہ حضرت