حیات قدسی — Page 426
۴۲۶ میں بھی بدنام ہو چکی ہوں۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر میں مجبور ہو کر بہت ممکن ہے کہ اپنی جان پر کھیل جاؤں۔والدہ نے جب اپنی بیٹی سے ایسے حیران کن خیالات سنے تو انگشت بدنداں ہو کر ورطہ حیرت میں پڑ گئی کہ یہ کیا ہونے لگا ہے اور گردشِ فلک کیسے تغیرات دکھانے لگی ہے۔وہ حیران تھی کہ اب ان کے مشکلات کو جور ونما ہونے والی ہیں کیونکر دور کروں۔اور نہ صرف اپنے تئیں بلکہ اپنی پیاری بیٹی اور اس کے والد کو جو ملک بھر میں شاہانہ جاہ و جلال کا مالک ہے ان مصائب سے کس تدبیر سے نجات دلاؤں۔اورلڑکی کے ظاہر کردہ خیالات کا اس کے والد کے سامنے کس طرح ذکر کروں۔شاہزادی کی والدہ نے مہاراجہ کے حضور مناسب موقع پر اور موزوں الفاظ میں بیٹی کے خیالات کی ترجمانی کر دی۔مہاراجہ کے ہاں وہ ایک ہی بیٹی تھی اور بے حد ناز و نعم اور محبت سے پالی ہوئی تھی۔مہاراجہ کو بیٹی کی والدہ سے بیٹی کے متعلق یہ نا گوار خیالات سن کر بہت محسوس ہوا لیکن صبر و قتل سے طبیعت کو ضبط میں رکھتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ لڑکی بھی بوجہ شدید غلبۂ محبت مجبور ہو چکی ہے۔ان حالات میں اس پر تشدد کرنا یا اس سے سختی سے پیش آنا مناسب نہیں۔پس اس وقت یہی تدبیر ہو سکتی ہے ہے کہ نرمی اور محبت سے آپ بھی اور لڑکی کی سمجھدار سہیلیاں بھی اس کو سمجھا ئیں۔ممکن ہے کہ وہ سمجھ کر ان خیالات اور جذبات طبیعت پر قابو پالے۔اور میں اپنے خاص وزراء سے مل کر مشورہ کرتا ہوں۔کہ ان حالات پیش آمدہ کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے۔چنانچہ بادشاہ نے وزراء سے مشورہ طلب کیا۔بعض نے کہا کہ اس مسلمان کو قتل کرا دیا جائے۔بعض نے مشورہ دیا کہ اسے قید و بند میں محبوس کر دیا جائے۔بعض نے کہا کہ لڑکی کو تشدد کی راہ سے سختی سے روکنا چاہیئے۔بعض نے کہا کہ سب طریقے شاہی خاندان کی مزید بدنامی کا باعث ہوں گے۔بعض نے کہا کہ جب شاہزادی کا نکاح اور شادی بہر کیف کی جانی ہے تو وہ جس سے خود بخود شادی کرنا پسند کرتی ہے کیوں نہ اس سے شادی کر دی جائے۔بعض نے کہا کہ لڑکی ہندو ازم رکھتی ہے اور لڑ کا مسلمان ہے۔اگر تو لڑکا اور لڑکی دونوں ہم مذہب ہوتے تو کوئی بات نہ تھی۔لیکن مذہبی اختلاف کی سخت ناگوار صورت حد برداشت سے باہر ہے۔بعض نے کہا کہ سنا ہے کہ لڑکی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکی ہے اور اس طرح سے دونوں ہم مذہب بھی ہو چکے ہیں۔جب بادشاہ نے دریافت کرایا کہ کیا یہ درست ہے کہ لڑکی مسلمان ہو چکی ہے تو دریافت کرنے پر اس بات کی تصدیق کی گئی کہ فی الواقعہ لڑ کی مسلمان ہو چکی ہے۔اس پر سب مجلس کے افراد غیظ و غضب سے برافروختہ ہو کر کہنے لگے کہ لڑکی کا یہ فعل مذہبی لحاظ سے سخت تکلیف دہ اور