حیات قدسی — Page 425
۴۲۵ اطلاع پاتے ہی اس ٹھا کر دوارے کے مہنت صاحب کی خدمت میں نذرانہ لا کر پیش کیا اور آپ کے درشن کے لئے مسلمان ہوتے ہوئے ماتھے پر تلک لگا کر گلے میں جنجو بھی ڈال لیا۔اور دھوتی بھی پہن لی۔اور ٹھا کروں کی خدمت کے لئے ٹھاکر داس نام بھی رکھ لیا۔اور اس طرح آج آپ کے قدموں میں پہنچنے کا موقع حاصل کیا۔اس بیان سے شاہزادی اس قدر متاثر ہوئی کہ آبدیدہ ہو کر کہنے لگی کہ آج آپ کے عشق کی منزل ختم اور میرے عشق کا آغاز ہے۔آپ نے میرے عشق میں تلک لگایا اور گلے میں جنجو ڈال کر میری خاطر ہندو بنے اب میں آپ کی خاطر کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتی ہوں۔اور کل پرسوں تک میرے عشق کا فسانہ بھی سن لینا کہ عشق و وفا کی منزل کیسے طے کر کے دکھائی جاتی ہے۔اس کے بعد دونوں عاشق و معشوق اس قرب و وصال کی آخری گھڑی کے بعد بچشم اشکبار بصد مجبوری ایک دوسرے سے با حساس صدمہ فرقت بصد حسرت علیحدہ ہوئے اور شاہزادی واپس سہیلیوں کے پاس آ پہنچی۔اور در دعشق کے آنسو پونچھتی ہوئی کہنے لگی اب چلیں۔چنانچہ شاہزادی صاحبہ مع سہیلیوں کے گھر کو واپس آنے کے لئے چل پڑیں۔سہیلیوں نے دریافت کیا کہ شاہزادی صاحبہ آپ نے تو ٹھا کروں کے درشنوں میں بہت وقت لگایا اور جتنا وقت ہم سب سہیلیوں کا درشن اور پوجا پاٹھ میں صرف ہوا اس سے بھی آپ کا وقت زیادہ گذرا۔کیا آج کوئی خاص بات تھی اس سے پہلے تو آپ نے اتنا وقت کبھی نہ لگایا تھا۔شاہزادی صاحبہ نے فرمایا ہاں سارے دن اور ساری راتیں اور سارے اوقات ایک جیسے نہیں ہوتے۔اور نہ ہی غم اور خوشی اور فرقت اور قرب کی گھڑیاں ایک جیسی ہوتی ہے ہیں۔جب شاہزادی واپس گھر پہنچی تو والدہ نے دریافت کیا کہ بیٹی آج بہت دیر لگی ہے اس کی کیا وجہ ہوئی۔بیٹی نے کہا میری محبت اور عشق کے فسانے تو ٹھا کر دوارے کے مہنت تک شہرت پاچکے ہیں کہ جس طرح وہ مسلمان مجھ پر فدا ہے ویسے ہی میں بھی اس مسلمان پر فریفتہ ہوں۔معلوم نہیں شاہی محلات کے اندر سے میرے عشق کے فسانے کس طرح سے باہر پھیلے اور پھیلائے گئے۔اب میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ اب جس کے عشق کی بدنامی میرے متعلق اتنی ہو چکی ہے۔میرے لئے یہی مناسب ہے کہ اپنی زندگی کے باقی ایام اسی کے ساتھ گزاروں اور جو میرا ہو چکا ہے اور میرے لئے ملامتوں اور لوگوں کے طعنوں کی تکلیفیں اٹھاتا رہا ہے میں بھی اس کی ہو رہوں۔پس اے میری ما تا اب میں شادی اسی سے کروں گی۔آپ کی مامتا سے مجھے پیار کے طور پر امدادمل سکے تو میں اس طور پر امداد چاہتی ہوں کہ پتا جی سے کہیں کہ میری شادی میرے اس بد نام عاشق سے کر دیں جس کے عشق میں