حیات قدسی — Page 393
۳۹۳ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔میں آپ پر بالکل خوش ہوں۔والسلام پست : بخدمت شریف مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نورالدین۔۴ ستمبر ۱۲ء احمد یہ بلڈنگس۔ڈاک خانہ نولکھا۔لا ہور یہ خط حضور نے مجھے اس وقت تحریر فرمایا۔جب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے خلاف حضرت کے حضور شکایت لے کر گئے کہ میں اپنے خطبات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ کے اظہار میں غلو کرتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول نے ان کو یہ جواب دیا کہ جو درجہ حضرت صاحب کا مولوی را جیکی سمجھتے ہیں میں ان سے زیادہ سمجھتا ہوں۔اور میرے خط کے جواب میں یہ مکتوب بطور خوشنودی کے رقم فرمایا۔(٢) خط حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضور نے مجھے لا ہو ر احاطہ میاں چراغ دین صاحب کے پتہ پر ارسال فرمایا۔میں اس وقت بیمار تھا۔اور حضور کی خدمت میں قادیان جانے کی اجازت کے واسطے عرض کیا تھا:۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کو اختیار ہے چاہیں تو بے شک تشریف لائیں۔یہاں آپ کا گھر ہے اور ہم آپ کے دوست ہیں پستہ : بخدمت شریف مولوی غلام رسول صاحب را جیکی۔والسلام نورالدین ۲۶ رمئی ۱۹۱۲ء احاطہ میاں چراغ دین صاحب۔شہر لاہور