حیات قدسی

by Other Authors

Page 371 of 688

حیات قدسی — Page 371

رَضُوا عَنْهُ ا کے الفاظ آئے ہیں۔جن میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذکر پہلے ہے اور مومنوں کی رضا مندی کا ذکر بعد میں۔اور آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذَالِکَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّة 2 یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اس شخص کے لئے پائی جاتی ہے جس کے دل میں اپنے رب کی خشیت ہو۔اس کے جواب میں وہ بزرگ فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں تناقض نہیں ہوتا۔لہذا دوسری پیش کردہ آیت کا مطلب علاوہ اور باتوں کے یہ بھی ہے کہ اس میں وَرَضُوا عَنْهُ کی و حالیہ ہے۔اور اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مومن بندوں سے راضی ہوا۔اس حالت میں کہ وہ اس سے راضی ہو گئے۔اور وہ بات جس کی وجہ سے مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوئی۔وہ اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اس کی عظمت کا احساس ہے جو خودی اور خودروی کے حجابوں کو اٹھا دیتا ہے۔پس ان معنوں کے رُو سے دونوں آیات میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔وصال الہی ایک دفعہ ایک مجلس میں میں تصوف کے متعلق بعض باتیں بیان کر رہا تھا کہ یہ سوال پیش ہوا کہ وصالِ الہی کے مسئلہ کی حقیقت کیسے سمجھ میں آسکتی ہے۔اور عام لوگ کس علامت سے شناخت کر سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو اللہ تعالیٰ کا وصال حاصل ہو چکا ہے۔جب میں رات کو سویا تو مجھے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی اور مجھ پر یہ مسئلہ منکشف فرمایا گیا۔جسے مختصر طور پر یہاں درج کر دیتا ہوں۔وصالِ الہی کے لئے دو قسم کی علامتوں کا ہونا ضروری ہے۔ایک وہ قسم جو واصل باللہ میں پائی جاتی ہے۔اور دوسری وہ قسم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے واصل بندے کے لئے ظہور میں آتی ہے۔عبد سالک کے لئے شریعت حقہ کی پیش کردہ تعلیم پر پوری طرح عامل ہونا اور اسوۂ رسول کے مطابق اپنی زندگی بنانا بہت ضروری ہے۔اس کے لئے تمام عقائد، اعمال اور اخلاق تعلیم شریعت اور اُسوہ رسول میں ڈھلے ہوئے ہونے چاہئیں۔اس کو تقویٰ کی باریک سے باریک راہوں سے واقف اور اللہ تعالیٰ کی تمام جلالی اور جمالی صفات سے آگاہ ہونا چاہیئے۔اس کی عملی زندگی میں اتقا کا اثر نمایاں ہونا چاہیئے۔اور اس کو معرفت کے ہر باب کے متعلق وسیع معلومات رکھنی چاہئیں۔اور اس کے