حیات قدسی

by Other Authors

Page 357 of 688

حیات قدسی — Page 357

۳۵۷ حذف وتغییر کے قواعد زبان عرب سے اخذ کئے ہیں۔مہموز الفاء کی مثال آمَرَ يَا مُرُ میں پائی جاتی ہے۔اور تأمرُ کے واحد صیغہ حاضر فعل مضارع سے فعل امر۔ھر بنایا جاتا ہے اور ہمزہ جو تامر میں تھا وہ حذف کر دیا جاتا ہے اسی طرح مہموز العین کی مثال سَئَلَ يَسأَل میں پائی جاتی ہے۔اور اس سے صیغہ امرسَلُ اور اسئل بقندم حرف ي وبتأخر حرف ہمزہ استعمال نہیں ہوتا۔بلکہ جاء باجائِي بحذف حرفي يا تغییر مقدم بمؤخر استعمال کیا جاتا ہے۔اب وأي اگر چہ مثال و اوی بھی ہے۔اور ناقص یائی بھی۔لیکن علاوہ مثال اور ناقص کا کے ہفت اقسام میں سے مہموز العین بھی ہے۔اب ہموز العین کے متعلق سل کے صیغہ امر کی مثال سے واضح کیا جا چکا ہے۔کہ اس کا ہمزہ فعل امر کے صیغہ میں گر جاتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ مہموز العین کا ہمزہ جو وَ أي سے ا کی صورت میں صرف الف مکسورہ رہ گیا تھا۔بوجہ مہموز العین ہونے کے گر گیا۔اور جیسے صیغہ واحد مذکر میں ہمزہ گر کر باقی بطور نشان حرکت کسرہ جو ہمزہ مکسور کے نیچے پائی جاتی ہے رہ گئی۔اور جس طرح فعل امر کے صیغہ واحد مذکر حاضر کے لئے اس حرکت کے لئے ہمزہ اصلی کے گرنے کے بعد ہمزہ وصلی حرکت کے لئے بطور حامل ضروری حرکت تھا اسے استعمال میں لایا گیا۔اور یہ صیغہ واحد مونث کے لئے بھی استعمال ہوا۔اب نون ثقیلہ کا انضمام ہمزہ اصلی سے تو نہیں۔البتہ ہمزہ وصلی سے ہے۔اور ان جو وَ أي سے ہند کو بصورت منادی بصیغہ خطاب استعمال ہوا ہے۔ان معنوں میں ہے۔کہ اے ہند تو وعدہ وفائی کر۔اور یہ ان دراصل وأي سے بصیغہ واحد مونث فعل امر سے بوجہ مہموز العین ہونے کے ہمزہ اصلی گرا دیا گیا ہے۔اور باقی صرف حرکت اعرابی رہ گئی ہے۔جو بحالت تجرد قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ حرکت حرف متحرک کی مقتضی ہوتی ہے۔اس لئے ہمزہ اصلی کے حذف ہونے پر ہمزہ وصلی کو بطور حامل حرکت کے استعمال میں لانا ضروری تھا۔اور جملہ چونکہ فعل۔فاعل اور زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔اور ان میں فاعل مندہ ہے اور فعل امر ہے۔اور فعل اور فاعل مل کر جملہ فعلیہ بنا۔اور یہ جملہ فعلیہ با وجود جملہ ہونے کے اپنی اصلیت کے رو سے جو حرکت ان کی ہے۔اور مہموز العین سے وائی کے امر کے ہمزہ کے گرنے سے صرف حرکت ہی رہ گئی ہے۔وہی حرکت جملہ کا قائم مقام بن گئی۔جب یہ جواب میں نے تشریح کے ساتھ پیش کیا تو سب علماء اس سے بہت محظوظ ہوئے اور و