حیات قدسی — Page 18
۱۸ جب مولوی صاحب بیٹھک میں آئے تو میں نے آتے ہی دریافت کیا کہ یہ منظومات عالیہ کس بزرگ کے ہیں اور آپ کسی زمانہ میں ہوئے ہیں۔مولوی صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ شخص مولوی غلام احمد ہے جو صحیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اور قادیان ضلع گورداسپور میں اب بھی موجود ہے۔اس پر سب سے پہلا فقرہ جو میری زبان سے حضور اقدس علیہ السلام کے متعلق نکلا وہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں اس شخص کے برابر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق نہیں ہوا ہوگا۔اس کے بعد پھر میں نے حضور اقدس کے مطائبات و منظومات پڑھنے شروع کر دیئے تو ایک صفحہ پر حضور انور کے یہ اشعار میرے سامنے آئے۔چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی داده اند ے در خشم چوں قمر تابم چوں قرص آفتاب صادقم و از طرف مولا با نشانها آمدم مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند کور چشم آنانکه در انکار با افتاده اند صد در علم و ہدی بر روی من بکشادہ اند آسماں بارد نشاں الوقت میگوند زمیں این دوشاہد از پیئے تصدیق من استاده اند ان ارشادات عالیہ کے پڑھتے ہی مجھے حضور اقدس کے دعوی عیسویت اور مہدویت کی حقیقت معلوم ہوگئی اور میں نے ۱۸۹۷ء میں غالباً ماہ ستمبر یا ماہ اکتوبر میں بیعت کا خط لکھ دیا۔چنانچہ حضور اقدس علیہ السلام کی طرف سے حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کا نوشتہ خط جو میری قبولیت بیعت کے متعلق تھا مجھے پہنچ گیا۔میں نے جب یہ خط مولوی امام الدین صاحب کو دکھایا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے بیعت کرنے میں جلدی کی ہے مناسب ہوتا اگر آپ تسلی کے لئے پوری پوری تحقیق کر لیتے۔میں نے کہا میری تسلی تو خدا کے فضل سے ہو گئی ہے۔اس کے بعد مولوی صاحب نے وہ مرسله رسائل جو حضور اقدس نے قادیان سے میرے نام ارسال فرمائے تھے پڑھنا شروع کر دئیے۔ان رسالوں کے مطالعہ سے مولوی صاحب کو تو اس قدر فائدہ ہوا یا نہیں مگر مجھے ان کے مطالعہ سے یوں معلوم ہوا کہ جیسے میں ایک تاریک دنیا سے نکل کر روشنی کے عالم میں آ گیا ہوں۔