حیات قدسی — Page 313
گفتگو گفتگو کرنے کے لئے ایک وسیع و عریض میز کے ارد گرد کرسیاں بچھا کر بیٹھ گئے۔اس موقع پر خواجہ صاحب نے مجھے کہا کہ آپ اپنے کمرہ میں تشریف لے جائیں۔ہم ان معززین سے خود ہی گے کر لیں گے۔خواجہ صاحب نے ایسا شاید میری سادگی کی وجہ سے کیا کہ میں بے با کی میں سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے نام کی تبلیغ نہ کروں۔بہر حال میں ان کے کہنے پر وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں جو میری رہائش کے لئے مخصوص تھا چلا گیا۔محمد ہاشم صاحب نے خواجہ کمال الدین صاحب سے کہا کہ وہ قرآن کریم کے متعلق کچھ استفسار کرنا چاہتے ہیں۔اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ اِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَ مُوسَى 28۔اگر یہ قول درست ہے اور قرآن کریم میں ایسی کوئی زائد بات نہیں جو پہلی کتابوں اور صحیفوں میں نہ پائی جاتی ہو۔تو قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے۔اس کی ضرورت تو صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے کوئی کمی یا زیادتی ہوتی۔کیا کوئی ایک حکم بھی قرآن کریم میں ایسا پایا جاتا ہے جو پہلی شریعتوں سے زائد ہو یا پہلے حکموں کو منسوخ کرنے والا ہو۔مجھے صرف ایک مثال ہی دی جائے اور جواب قرآن کریم سے دیا جائے۔جب محمد ہاشم صاحب نے یہ سوال کیا۔اور خواجہ صاحب نے محسوس کیا کہ وہ اس کے جواب سے کماحقہ عہدہ برانہیں ہو سکتے۔تو مجھے آواز دی کہ مولانا ! ذرا تشریف لائیں۔میں ان کی آواز پر حاضر ہو گیا۔سوال محمد ہاشم صاحب نے دوہرایا۔میں نے جواباً عرض کیا کہ میں قرآن کریم سے ایسی کئی مثالیں پیش کر سکتا ہوں۔محمد ہاشم صاحب نے کہا کہ زیادہ مثالوں کی ضرورت نہیں صرف ایک مثال ہی کافی ہے۔میں نے پہلے تو مَا نَنْسَحُ مِنْ آيَةٍ - 24 الخ کی مختصر تشریح کی۔اور پھر سورہ آل عمران کی آیت الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرُبَانِ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءَ كُمُ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِى بِالْبَيِّنَتِ وَ بِالَّذِى قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صدقين - 25 یعنی اہل کتاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر ایمان لانے کے متعلق اس بات کا مطالبہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں اس بات کا حکم ہے کہ ہم کسی۔۔۔رسول پر ایمان نہ لائیں۔اور نہ ہی اس کے رسول ہونے کا اعتماد کریں جب تک کہ وہ سوختنی قربانی پیش نہ