حیات قدسی — Page 298
۲۹۸ انڈے گر کر ٹوٹ گئے۔میں اس وقت کتابت میں مشغول تھا۔جب کبوتروں نے گھونسلے کو ویران اور انڈوں کوٹو ٹا ہوا دیکھا تو دردناک آواز کے ساتھ پھڑ پھڑانا شروع کر دیا۔ان کی دردناک آواز اور بیتابی نے مجھ پر شدید اثر کیا اور میں اپنا قلم روک کر ان کی طرف متوجہ ہوا۔اور بچشم اشکبار ان کے غم میں شریک ہو گیا۔میں دیر تک سوچتا رہا کہ ان بے زبان پرندوں کی دلجوئی کس طرح کروں۔لیکن کوئی صورت نظر نہ آئی۔آخر مجھے یہ خیال آیا کہ درود شریف چونکہ قبول شدہ دعا ہے۔اس لئے اگر میں اسے اس نیت سے پڑھوں کہ اس کا ثواب اللہ تعالیٰ بجائے مجھے پہنچانے کے ان پرندوں کو تسلی کی صورت میں عطا کی فرمائے تو ہو سکتا ہے کہ ان بے زبانوں کی کچھ غمخواری ہو سکے۔چنانچہ میں نے اس نیت سے درود شریف پڑھنا شروع کیا تو ان پرندوں کی بیتا بی دور ہو گئی۔اور وہ آرام کے ساتھ بیٹھ گئے۔ان کو خاموش دیکھ کر میں نے اپنا قلم اٹھایا۔اور درودشریف کا وظیفہ بند کر کے کتابت میں مصروف ہو گیا۔لیکن ابھی میں نے چند سطریں ہی لکھی تھیں کہ کبوتروں نے پھر بے چینی اور بیتابی کا اظہار شروع کر دیا۔ان کی درد ناک حالت کو دیکھ کر میں نے پھر درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آرام سے بیٹھ گئے۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب میں نے کتابت شروع کی تو ان کی حالت پھر متغیر ہو گئی۔تین چار دفعہ اسی طرح وقوع میں آیا۔اس کے بعد اذان ہونے پر میں کمرہ بند کر کے مسجد میں چلا گیا اور کبوتر اڑ گئے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ بَارَک وَسَلَّمُ احتباس طمت کا علاج ایک دفعہ خاکسار مرکزی ہدایت کے ماتحت جھنگ شہر میں متعین ہوا۔میں نے وہاں پہنچ کر مختلف احباب جماعت سے دریافت کیا کہ اس جماعت میں کون سے امور اصلاح طلب ہیں تا کہ میں درس دیتے وقت ان کو لحوظ رکھوں۔چنانچہ میں قابل تربیت امور کے متعلق وعظ ونصیحت کرتا رہا۔اسی دوران میں ایک دن مجھے حکیم اللہ بخش صاحب نے کہا کہ آپ کے آنے سے جماعت کو بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔لیکن ایک عورت کچھ استفادہ نہیں کرسکی۔اور وہ میری بیوی ہے جو