حیات قدسی — Page 288
۲۸۸ خط و کتابت کی مزید ضرورت نہیں۔مناظرہ وفات مسیح اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہوا۔مولوی محمود صاحب ہر طرح سے لا جواب ہو کر بحث کے اختتام سے پہلے اٹھ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہنے لگے۔ہم نے دنیا کے اور کام بھی تو کرنے ہیں، اس بات کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا کہ مرزائیوں کی تبلیغ ہی سنتے رہیں۔اس کے بعد آپ نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی۔دوستو ! اٹھو۔کافی سن لیا ہے۔چنانچہ وہ اٹھ کر چلے گئے۔اس مناظرہ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کے متعلق سامعین پر بہت اچھا اثر پڑا۔مناظرہ کے بعد مکرمی منشی محمد الدین صاحب اور مکرمی چوہدری سلطان عالم صاحب ساکن گولڑیالہ کی معیت میں ہم کھاریاں ، نو رنگ نصیرا فتحور وغیرہ میں تبلیغ کے لئے گئے۔بیماری کا حملہ میں فتحپور میں کثرت کار کی وجہ سے بیمار ہو گیا۔مکرمی سید محمد شاہ صاحب نے مجھے مصری کا شربت اور اسبغول استعمال کرایا۔لیکن میرے ساتھ وہی معاملہ ہوا۔جس کے متعلق صاحب مثنوی نے فرمایا ہے ہے۔چوں قضا آمد طبیب ابله شود شربت پیتے ہی اسہال شروع ہو گئے۔اور تکلیف اس قدر بڑھ گئی کہ دودو چار چار منٹ کے بعد دست آنے شروع ہو گئے۔یہاں تک کہ قضائے حاجت کے لئے مکان کے اندر ہی انتظام کرنا پڑا۔سیدہ فاطمہ صاحبہ اہلیہ سید محمد شاہ صاحب نے اکرام ضیف اور تیمارداری کا وہ نمونہ دکھایا کہ دنیا میں بہت کم نظر آئے گا۔جب میری بیماری اور ضعف ہر آن بڑھتا گیا۔اور حالت نازک ہو گئی تو میں نے منشی محمد الدین صاحب سے کہا کہ میں اپنے آخری لمحات میں مناسب سمجھتا ہوں کہ وصیت تحریر کراؤں۔چنانچہ منشی صاحب کو میں نے وصیت لکھوا دی۔جب پڑھ کر سنائی گئی تو سب دوست آبدیدہ ہو گئے۔اور انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں تار کے ذریعے درخواست دعا کی۔چنانچہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا اور میں رُو بصحت ہونے لگا۔