حیات قدسی — Page 282
۲۸۲ وجہ سے نہیں سمجھتا۔ورنہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر وقت دنیا پر اپنا سایہ کئے ہوئے ہے۔فَالحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ حکایت عجیبه ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آنے کے لئے گاڑی پر سوار ہوا۔حسن اتفاق سے اسی ڈبہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے۔میں آپ کو دیکھ کر بہت مسرور ہوا۔اور آپ بھی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔میں نے عرض کیا کہ عربوں کا یہ طریق تھا کہ حالت سفر میں سفر کو آسانی سے کاٹنے کے لئے کہتے تھے کہ هَلْ تَحمُلُنِی اَمُ اَحْملُكَ یعنی کیا آپ مجھے اٹھا ئیں گے یا میں آپ کو اٹھاؤں۔اس سے ان کا یہ مطلب ہوتا کہ آپ مجھے کوئی واقعہ یا حکایت سنائیں یا میں آپ کو کوئی واقعہ یا حکایت سناؤں تا کہ سفر آسانی اور دلچسپی سے کٹ جائے۔میری یہ بات سن کر میر صاحب نے حکیم اجمل خاں صاحب کے خاندان کا ایک واقعہ سنا یا جوان کے خاندان کی شہرت اور عظمت کا باعث بنا۔حکیم اجمل خاں صاحب کے دادا کے وقت میں ایک بہت بڑا انگریز افسر جو غالبا کر نیل کے عہدہ پر تھا۔کسی تقریب پر دہلی میں آیا۔وہ اور اس کی لیڈی ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔لیڈی کو آٹھواں مہینہ حمل کا تھا وہ ہنستے ہنستے اچانک بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑی۔ڈاکٹروں نے بعد معائنہ بالاتفاق رائے دی کہ ان کی وفات واقع ہوگئی ہے۔جب پادریوں کو معلوم ہوا کہ فلاں انگریز افسر کی بیوی فوت ہو چکی ہے۔تو وہ نسل اور جنازہ کو تیار کرانے کے لئے وہاں آگئے۔لیکن وہ انگریز افسر مانع ہوا۔اور کہنے لگا۔کہ مفنسل اور جنازہ کیسا؟ میری بیوی تو ابھی میرے ساتھ ہنسی خوشی با تیں کر رہی تھی وہ مری نہیں بلکہ زندہ ہے۔لوگوں نے کہا جب ڈاکٹروں نے متفقہ رائے دے دی ہے کہ ان کی وفات واقع ہو گئی ہے تو اس بارہ میں شک کرنا بے معنی اور مضحکہ خیز ہے۔اس انگریز افسر نے کہا کہ میں ڈاکٹروں کی رائے کو فی الحال قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، یونانی اطباء کو بلا کر بھی میں اپنا اطمینان کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ حکیم اجمل خاں صاحب کے دادا کو بلوایا گیا۔وہ آئے اور انہوں نے سب حالات سن کر لیڈی صاحبہ کو اچھی طرح دیکھا۔معائنہ کے بعد انہوں نے دو بندوقیں منگوائیں۔اور میم صاحبہ کو چت لٹا کر اور منہ آسمان کی طرف کر کے دو شخصوں کو