حیات قدسی

by Other Authors

Page 268 of 688

حیات قدسی — Page 268

۲۶۸ رحمت اللہ تھا۔زمین کے لئے اڑ ہائی صد روپیہ کسی غیبی تحریک کے ماتحت مجھے دیا۔اس سے میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے توسط سے زمین خرید لی۔آٹھ نو صد روپیہ میری بیوی نے اپنے زیور فروخت کر کے مہیا کیا۔جس کی لکڑی اور کچھ اور ضروری سامان خرید لیا گیا۔مستری اللہ رکھا صاحب ساکن تر گڑی جو آج کل لاہور میں ٹھیکیداری کا کام کرتے ہیں۔ان کے بہت سے لڑکے پیدا ہو کر بچپن میں فوت ہوتے رہے۔انہوں نے ایک دفعہ بہت دردمندانہ لہجہ میں دعا کی درخواست کی۔مجھے ان کے لئے دعا کا اچھا موقع میسر آ گیا۔اور میں نے ان کو اطلاع کے دے دی کہ اب جولڑ کا آپ کے ہاں پیدا ہو گا۔وہ لمبی عمر پانے والا ہوگا۔چنانچہ ان کو خدا تعالیٰ نے لمبی عمر پانے والا لڑ کا دیا۔جس کا نام عبد الحفیظ ہے اور اب وہ بی۔اے پاس کر کے لاہور میں ملازم ہے اور صاحب اولاد بھی ہے۔مستری اللہ رکھا صاحب نے لکڑی کا عمارتی کام اپنے ذمہ لیا۔جب مکان کی تعمیر کے لئے اینٹوں کا کا مسئلہ در پیش ہوا تو حضرت عرفانی صاحب کے ذریعہ سے اینٹیں بطور قرض مل گئیں اور حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ نے اپنے انتظام اور نگرانی میں مکان کی تعمیر شروع کرادی۔مکان کی چھت پر جب ٹائلوں کی ضرورت پڑی اور اس کی اطلاع حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ کو ہوئی تو آپ نے مہیا فرما دیں۔اس طرح میری غیر حاضری میں ہی مکان تعمیر ہو گیا۔مکان تعمیر ہونے کے بعد مجھے یہ فکر تھا کہ حضرت عرفانی صاحب کا قرضہ اور اس سلسلہ میں بعض دوسری رقوم کا بار جو میرے ذمہ ہے وہ جلد اتر جائے۔اسی اثنا میں خاکسار بعض تبلیغی اور تربیتی ضرورتوں کے ماتحت گجرات بھجوایا گیا۔وہاں میں نے ماہ رمضان میں خاص طور پر قرض کے اترنے کے لئے دعا کی۔میرا یہ طریق ہے کہ ہر رمضان میں اس مقدس ماہ کے فیوض و برکات حاصل کرنے کے لئے کوئی خاص مقصد سامنے رکھ کر دعا کرتا ہوں۔چنانچہ اس رمضان میں بھی جب میں نے خاص توجہ سے گراں بار قرض کے اترنے کے لئے دعا کی اور دعا کرتے ہوئے آٹھواں دن ہوا تو اللہ تعالیٰ کی قدوس ذات میرے ساتھ ہمکلام ہوئی اور اس پیارے اور محبوب مولیٰ نے مجھ سے ان الفاظ میں کلام فرمایا:۔”اگر تُو چاہتا ہے کہ تیرا قرضہ جلد اتر جائے۔تو خلیفة المسیح کی