حیات قدسی

by Other Authors

Page 238 of 688

حیات قدسی — Page 238

۲۳۸ مناظرات و مباحثات کی اجازت دی لیکن ان کو پسند نہیں فرمایا۔بلکہ ایسی بحثوں میں شامل ہونے کو بیت الخلاء میں جانے سے تشبہیہ دی ہے۔تلخ تجربہ مجھے بیعت کرنے کے بعد سے ان ترین سالوں میں ہزار ہا دفعہ مناظرات اور مباحثات کا موقع ملا ہے اور باوجود اس کے کہ دل میں اس امر کے متعلق ہمیشہ ہی کراہت رہی لیکن بامر مجبوری غیر مسلموں، غیر احمدیوں اور غیر مبائعین کے ساتھ بخشیں کرنی پڑیں۔میں نے اس لمبے عرصہ میں یہی تجربہ کیا ہے کہ سوائے معدودے چند مناظرات کے غیر مسلم ، غیر احمدی اور غیر مبائعین کے مناظرین نے ہمیشہ ہی گندے اور ذاتی حملوں اور بد کلامی پر بحث کا مدار رکھا۔اور صحت نیت اور احقاق حق کے لئے شاذ ہی کسی بحث میں حصہ لیا۔ان حالات میں میرے لئے بہت ہی دشواری کا سامنا رہا کہ اگر ان کی باتوں کو نہ سنتا تو ان کی تردید اور ذب کس طرح کرتا۔اور اگر ان باتوں کو سنتا تو آیت کریمہ کے وعید کی زد میں میرا آنا ضروری ہو جاتا۔اگر چہ میری نیت صالحہ کی وجہ سے اس جہاد میں اس وعید کے برے اثر میں کسی قدر کمی واقع ہو جاتی لیکن بعض اوقات شدید گندے اعتراض اور حملہ کی وجہ سے طبیعت بہت ہی منقبض ہوتی۔اور غیرت کے تقاضا سے ایسی مجلس میں بیٹھنا سخت معیوب اور بہت ناگوار ہو جاتا لیکن بامر مجبوری بحیثیت مناظر کے اس گندے سنڈ اس سے دماغ کو متعفن اور متازی کرنا پڑتا۔اور اس سے روحانیت کو بہت ہی نقصان پہنچا۔نبوت کا عہد سعادت سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ حیات میں جب کہ خدا تعالیٰ کی مقدس وحی کا نزول بارانِ رحمت کی طرح ہو رہا تھا۔اس عہد میں جو بات بار بار میرے تجربہ میں آئی یہ تھی کہ دعا کرنے اور نماز پڑھنے کی سمجھ اور لذت ان نمازوں کے ذریعہ آئی جو حضور اقدس علیہ السلام کی معیت میں پڑھی گئیں۔سبحان اللہ وہ کیسا ہی مبارک زمانہ تھا کہ نماز کے وقت نمازیوں کے خشوع و خضوع، رقت قلب اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ گڑ گڑانے اور آہ و بکار کرنے کا شور مسجد مبارک میں بلند ہوتا تھا لوگ آستانہ الہی پر سر بسجو د ہوتے اور مسجد مبارک وجدانی صداؤں سے گونج اٹھتی۔نبی وقت کی پاک صحبت اور بابرکت روحانی توجہ کا یہ اعجاز نما اثر جب بھی یاد آتا ہے تو دل