حیات قدسی

by Other Authors

Page 232 of 688

حیات قدسی — Page 232

۲۳۲ ایک لطیفہ اس بحث کے اختتام پر مولوی ابراہیم صاحب نے اٹھ کر تمام حاضرین کے سامنے کہا کہ یہ بحث دین کے مسائل کی تحقیق کے لئے تھی جو اب ختم ہو گئی ہے۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی میرے دوست ہیں اور ان سے بارہا مجھے مناظرہ و بحث کرنے کا موقع ملا ہے۔اگر وہ احمدی ہیں یا میں اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہوں تو یہ اپنی اپنی مرضی ہے۔موسیٰ بہ دین خود عیسی به دین خود“۔جب یہ فقرہ مولوی ابراہیم صاحب کے منہ سے نکلا تو جن لوگوں نے ان کو دعوت دے کر بلایا ہوا تھا۔انہوں نے۔اپنی جہالت کی وجہ سے یہ سمجھا کہ مولوی صاحب نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کو بے دین ( بد دین ) کہا ہے۔چنانچہ انہوں نے شور ڈال دیا اور آوازے کیسے کہ یہ مولوی تو احمد یوں سے بھی زیادہ بیدین اور گمراہ ہے کہ دو بزرگ نبیوں کو بے دین کہتا ہے اور بحث کا نتیجہ بھی حنفیوں کے حق میں اچھا نہیں نکلا کہ ہمارے پچاس آدمی ہم سے نکل کر احمد یوں میں شامل ہو گئے ہیں۔چنانچہ جب مولوی ابراہیم صاحب نے واپسی کے لئے ان سے گھوڑی اور ایک آدمی گھوڑی کو واپس لانے کے لئے مانگا اور سیالکوٹ جانے کے لئے کرایہ طلب کیا تو بلانے والوں نے ناراض ہو کر کہا ایسے شخص کو جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیھما السلام کو بے دین کہا ہے ہم سواری کے لئے گھوڑی اور کرایہ کے لئے رقم نہیں دے سکتے۔مولوی ابراہیم صاحب نے ان کو بہت کچھ سمجھایا کہ انہوں نے ان کے فقرے کا مطلب غلط سمجھا ہے۔لیکن دیہاتی لوگ بوجہ کم علمی ان کی بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔اور مولوی صاحب کی تذلیل پر آمادہ ہو گئے۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس مناظرہ میں سلسلہ حقہ کو بہت بڑی کامیابی نصیب ہوئی اور حق کا بول بالا ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک چک لوہٹ ضلع لد ہیا نہ میں مباحثہ چک لوہٹ کے احمدی احباب کی درخواست پر ایک دفعہ ہم وفد کی صورت میں جس میں حضرت حافظ روشن علی صاحب بھی تھے ، گئے۔وہاں دوران تقریر میں ایک صاحب نے میرے پنجابی رسالہ