حیات قدسی — Page 231
۲۳۱ ہے جس کے لئے قرآن کریم کے معجزانہ کلام میں کوئی گنجائش نہیں۔دوسری پیش کردہ بات کا جواب دوسرے مولوی ابراہیم صاحب نے رفع جسم کے ثبوت میں واقعہ معراج کو پیش کیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ شب معراج کا واقعہ اس خا کی جسم کے ساتھ نہ تھا بلکہ ایک خاص نورانی وجود کے ساتھ تھا جو اہل کشف یا اہل اللہ کو حالت کشف و رویا میں دکھایا جاتا ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت آیہ کریمہ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءُ يَا الَّتِي أَرَيْنكَ إِلَّا فِتْنَةٌ 23 سے ملتا ہے اور اسی طرح سورہ نجم کی آیتہ مَا كَذَبَ الْفَوادَ وَمَا رَای سے بھی ، ان دونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ معراج کا واقعہ ایک رؤیا اور قلبی و روحانی کیفیت تھی پھر صحیح بخاری میں واقع معراج کی تشریح میں فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ فِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 24 اور دوسری قرأت میں فَاسْتَيْقَظتُ وَ آنَا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 20 کے الفاظ وارد ہوئے ہیں اور حضرت عائشہ صدیقہ نے بعض صحابہ کی روایت سے متفق ہو کر یہ الفاظ بھی فرمائے ہیں۔کہ ما فقد جسد رسول اللہ اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور آپ کا خاندان روحانی معراج کا ہی قائل تھا۔چنانچہ حضرت شاہ عبد القادر صاحب نے اپنے قرآن کے حاشیہ میں وما جعلنا الرؤيا سے معراج کا واقعہ ہی لیا ہے اور ماکذب الفواد بھی کشفی نظارہ مرا دلیا ہے۔ایک جواب میری طرف سے یہ بھی دیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ الصلوة معراج المومن 20 یعنی نماز مومن کا معراج ہے اب اگر کسی اور مومن کے لئے نماز معراج نہ بھی ہو تو کم از کم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو ضرور معراج ہونی چاہیئے۔پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جسمانی طور پر مسجد میں اور زمین پر ہی موجود رہتے اور روحانی مقام کی بلندی حاصل ہونے کی وجہ سے آپ کی یہ حالت معراج کہلا سکتی تھی۔اسی طرح آپ کے دوسرے معراج اور اسراء کی کیفیت بھی روحانی صورت رکھتی ہے۔اس مناظرہ کا خدا کے فضل سے سامعین پر بہت اچھا اثر پڑا اور اس موقع پر پچاس آدمیوں نے بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔ان کے نام اخبار بدر میں بھی ان دنوں شائع ہو گئے تھے۔