حیات قدسی — Page 225
۲۲۵ مچھلی کے پیٹ (بطن حوت ) میں گزارنے پڑے جو ابتلاء کے لحاظ سے اس قدر سخت تھے کہ ان سے نجات ناممکن نظر آتی تھی تو ایسے شخص کو لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ کے مبارک الفاظ میں تسبیح کرنی چاہیئے۔اس سے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نازل ہو کر ایسے ابتلاء سے نجات ملتی ہے۔چنانچہ اس تسبیح کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے بہت جلد مجھے بظاہر اس مایوس کن مرض سے شفا عطا فرمائی۔فالحمد للہ علی ذالک سفر اور روحانی زندگی مجھے اپنی زندگی میں کثرت کے ساتھ سفر اختیار کرنے پڑے ہیں۔اور تبلیغی اغراض کے ماتحت میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں ہر علاقہ اور تقریباً ہر بڑے شہر کی طرف سفر کیا ہے۔یہ بات میرے تجربہ میں آئی ہے کہ سفر اور غریب الوطنی کی زندگی خشوع و خضوع اور توجہ الی اللہ پیدا کرنے کے لئے بہت مفید ہوسکتی ہے اور کبر و ناز نفس اور قساوت قلبی کی اصلاح کے لئے بہت ممد ہے۔میں نے اس بارہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مندرجہ ذیل کلام بہت ہی موزوں اور مناسب پایا ہے ؎ تَغَرِّبُ عَنِ الْأَوْطَانِ إِنْ تَبْتَغِي الْغُلَاءِ وَمُسَافِرُ فَفِي الْأَسْفَارِ خَمْسُ فَوَائِدٍ فَرُّجُ هَمْ وَاكِتِسَابُ مَعِيشَةٍ وَعِلْمٌ وَ آدَابٌ وَ صُحْبَةُ مَاجِدِ یعنی اگر تجھے اس بات کی آرزو ہے کہ سفلی زندگی سے نجات حاصل کر کے مراتب عالیہ تجھے نصیب ہوں تو غریب الوطنی اور مسافرانہ زندگی اختیار کر کیوں کہ سفر اختیار کرنے سے تجھے پانچ قسم کے فوائد حاصل ہوں گے۔اول طبیعت جن ہموم و تفکرات کے بوجھ کے نیچے دبی ہوئی ہے ان سے ہلکی ہو جائے گی۔دوسرے روزی کمانے کی کوئی صورت پیدا ہو سکے گی۔تیسرے حصول علم کا فائدہ پہنچ سکے گا۔چوتھے مختلف قسم کے آداب اور تہذیب و تمدن کے طریقوں سے واقفیت حاصل ہو جائے گی۔پانچویں اس سے بزرگ ترین ہستیوں کی صحبت کا فائدہ بھی پہنچے گا۔