حیات قدسی — Page 220
۲۲۰ ساری مخلوق مستفیض ہونے کے لئے تجھ سے ہی دعا کرے تو مجھے معاف فرما۔میں نے صبح ہی انسپکٹر صاحب موصوف کو بلا کر یہ دعائیہ کلمات ان کو سکھا دیے اور ساتھ ہی بشارت دی کہ یہ سب مصائب اور ابتلاء اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلد ہی دور ہو جائیں گے۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد ایسا ہی ہوا اور وہ جملہ مقدمات سے باعزت بری ہوئے اور تنزلی کے بعد انسپکٹر پولیس کے عہدہ پر دوبارہ فائز ہو گئے اور پھر اسی عہدہ سے پنشن پر آئے۔میں نے ان کا نام عمداً نہیں لکھا تا کہ استخفاف کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔اکثر احمدی ان کو جانتے ہیں۔ان کی موجودہ زندگی بہت ہی مخلصانہ اور صالحانہ اور مجھ سے بھی وہ بہت محبت رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کا اور ہم سب کا خاتمہ بالایمان والعرفان والرضوان فرمائے۔آمین ثم آمین۔نوٹ :۔افسوس ہے کہ اس کتاب کی کتابت کے وقت جناب انسپکٹر صاحب موصوف وفات پاچکے ہیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کی اولا داور لواحقین پر بھی اپنا فضل و کرم فرما تا ر ہے۔آمین خلافت حقہ کے متعلق آخری وصیت مورخہ ۱۲ رمئی ۱۹۵۱ء کو حضرت مولوی صاحب نے اپنے ایک خط بنام اپنے فرزند مولوی کے برکات احمد صاحب بی۔اے واقف زندگی میں مندرجہ ذیل وصیت نامہ (منظوم) اپنی اولاد کے لئے تحریر فرمایا۔اس میں ایمان ور شد اور خلافت حقہ احمدیہ کے متعلق ایک زریں اصل بھی بیان فرمایا ہے لہذا اس منظوم حصہ کو اس خط میں سے شائع کیا جاتا ہے )۔اے میرے محسن میرے پیارے خدا میرا ہر اک ذرہ ہو تجھے یہ کرم اور فضل تیرا بار بار تیرے احسانوں کا ہو کیونکر شمار پر فدا نعمتیں افزوں ہیں از حد بیاں شکر نعمت کی ہمیں طاقت کہاں کر دیا ممنون ہے احسان کا کھول کر تو نے در فیضان کا اب محبت، عشق کا اک جام بخش اور اپنے وصل کا انعام بخش جان و دل ہر دم رہے تجھ پر نثار اور تیرے پر فدا ہوں بار بار