حیات قدسی

by Other Authors

Page 169 of 688

حیات قدسی — Page 169

۱۶۹ سرائے میں ہمیں جلسہ کرنے اور لیکچر دینے کی اجازت دی۔اس سرائے کے ایک حصہ میں ہندوؤں کے بت خانوں کی یادگاریں اور بتوں کے مجسمے جا بجا نصب تھے۔جب ہماری تقریریں شروع ہوئیں تو اوپر سے ابر سیاہ برسنا شروع ہو گیا۔تمام چٹائیاں اور فرش بارش سے بھیگنے لگا۔اس وقت احمدیوں کے دلوں میں لیکچروں میں رکاوٹ کی وجہ سے سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی۔میرے دل میں بھی سخت اضطراب پیدا ہوا۔اور میرے قلب میں دعا کے لئے جوش بھر گیا میں نے دعا کی کہ اے ہمارے مولیٰ ہم اس معبد اصنام میں تیری توحید اور احمدیت کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں اور تیرے پاک خلیفہ اور مصلح موعود کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔لیکن آسمانی نظام اور ابر وسحاب کے منتظم ملائکہ بارش برسا کر ہمارے اس مقصد میں روک بننے لگے ہیں۔میں یہ دعا کر ہی رہا تھا کہ قطرات بارش جو ا بھی گرنے شروع ہی ہوئے تھے۔طرفتہ العین میں بند ہو گئے اور جو لوگ بارش کے خیال سے جلسہ گاہ سے اٹھ کر جانے لگے تھے۔میں نے ان کو آواز دے کر روک لیا اور کہا کہ اب بارش نہیں برسے گی۔لوگ اطمینان سے بیٹھ کر تقریریں سنیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مبلغین کے لیکچر ہوئے اور بارش بند رہی اور تھوڑے وقت میں مطلع بالکل صاف ہو گیا۔فالحمد لله على ذالک۔بھاگلپور میں تائید الہی کا کرشمہ اسی طرح ہمارا یہ وفد جب بھاگلپور میں پہنچا تو مقامی جماعت کی طرف سے ایک جلسہ منعقد کر کے ہمارے لیکچروں کا انتظام کیا گیا۔جلسہ کا پنڈال ایک سرسبز و شاداب اور وسیع میدان میں بنایا گیا۔حضرت مولوی عبد الماجد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں کے امیر جماعت تھے۔آپ کے انتظام کے ماتحت کرسیاں، میز اور دریاں قرینہ سے لگائی گئیں۔حاضرین کی تعداد بھی کافی ہو گئی۔ابھی جلسہ کا افتتاح ہی ہوا تھا کہ ایک کالی گھٹا جو برسنے والی تھی مقابل کی سمت سے نمودار ہوئی اور کچھ موٹے موٹے قطرات بارش گر نے بھی شروع ہو گئے۔میں اس وقت سٹیج کے پاس حضرت مولوی ابوالفتح پر وفیسر عبد القادر صاحب کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔میرے قلب میں اس وقت بارش کے خطرہ اور تبلیغی نقصان کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک جوش بھر گیا اور میں نے اس جوش میں الحاح اور تضرع کے ساتھ دعا کی کہ اے خدا یہ ابر سیاہ تیرے سلسلہ حقہ کے پیغام پہنچانے میں روک بننے لگا ہے