حیات قدسی

by Other Authors

Page 168 of 688

حیات قدسی — Page 168

۱۶۸ تھا، زیادہ پُر رونق ہو گیا۔مجھے بوجہ اس شہر میں ناواقفیت اور اجنبیت کے بظاہر کامیابی کی کوئی امید نہ تھی۔لیکن یہ سیدنا حضرت المصلح الموعود ایدہ اللہ کی توجہ اور قوت قدسیہ تھی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اچانک میاں شمس دین صاحب کی لڑکی کے اچانک بیمار ہونے اور میرے معمولی علاج سے شفایاب ہونے کا واقعہ ظاہر ہوا۔اور وہ جو میرا اپنے گھر میں کھڑا ہونا بھی برداشت نہ کر سکتے تھے ایک زبر دست معاون اور ہمدرد بن گئے اور بڑے فخر اور محبت سے تقریباً دو ہفتہ تک میری رہائش اور مہمان نوازی کا انتظام کیا اور مزید قیام کے لئے بھی اصرار کرتے رہے۔اس موقع پر جھنگ شہر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس رنگ میں کامیابی ہوئی کہ تمام ہند و تلملا اٹھے اور سرکاری افسران کو تاریں دیں کہ قادیانی مولوی کو اس طرح کا رروائی کرنے سے روکا جائے۔بمدرک (اُڑیسہ) میں سلسلہ حقہ کی تائید سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت ہندوستان کے دورہ کے لئے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا گیا۔جس میں خاکسار راقم ، مولوی محمد سلیم صاحب فاضل ، مہاشہ محمد عمر صاحب اور گیانی عبداللہ صاحب شامل تھے۔ہم پہلے کلکتہ گئے۔وہاں سے ٹاٹانگر ، جمشید پور ہوتے ہوئے کیرنگ پہنچے۔کیرنگ میں بڑی جماعت ہے جو مولوی عبدالرحیم صاحب پنجابی کے ذریعہ قائم ہوئی تھی۔کیرنگ کے اردگرد کے دیہات میں بھی ہم تبلیغ کی غرض سے جاتے رہے۔ایک دفعہ ایک گاؤں کی طرف جارہے تھے کہ راستہ میں ایک بہت بڑا سانپ نشیب میں جا رہا تھا۔اس سانپ کے اوپر کی طرف پشت پر بالکل گلہری کی طرح دھاریاں تھیں۔اسی طرح اس علاقہ میں سرس کے درخت دیکھے ان کے پھول بجائے زرد اور کالے رنگ کے سرخ رنگ کے تھے اس رنگ کے پھول پنجاب وغیرہ علاقوں میں نہیں ہوتے۔کیرنگ سے ہم بھر رک پہنچے یہ خاں صاحب مولوی نور محمد صاحب کا آبائی وطن تھا۔خانصاحب پولیس کے اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے۔بھدرک میں علاوہ دیگر شرفاء اور معززین کے ایک ہندو مہنت سے بھی ملاقات ہوئی جو وہاں کے رئیس تھے۔انہوں نے ہماری ضیافت کا انتظام بھی کیا اور اپنی وسیع |