حیات قدسی — Page 134
۱۳۴ ایک وفد کی صورت میں ریاست میسور کے شہر بنگلور میں گئے اور وہاں ایک جلسہ میں سید سلیمان صاحب ندوی اور مولانا شوکت علی صاحب برا در خانصاحب مولوی ذوالفقار علی صاحب احمدی وغیرہ کے علاوہ ہماری بھی تقریریں ہوئیں تو جلسہ کی کارروائی ہونے سے قبل ایک عرب نوجوان نے جب قرآن مجید کی تلاوت کی تو اس نے انہی آیات کو تلاوت کرتے ہوئے رسلہ پر وقف کیا اور دوسرے رسلہ پر بھی اس کے علاوہ قرآن مجید کے بعض نسخوں سے بھی میرے اس الہام کی تائید ہو گئی۔الحمد للہ علی ذالک نکته معرفت غالباً ۱۹۰۱ ء کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ میں حضورِ اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں حاضر تھا کہ حضور علیہ السلام نے توحید باری تعالیٰ پر ایک تقریر فرمائی اور اس میں ارشاد کیا کہ بعض لوگ کسی کے احسان پر الحمد للہ کہنے کے بغیر ہی جزاک اللہ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بنظر غائر دیکھا جائے تو از روئے معرفت یہ کلمہ بھی اپنے اندر ایک گونہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کے ذریعے وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔اس لئے ممنونِ احسان کو چاہئے کہ وہ جزاک اللہ کہنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی توصیف و تحمید بیان کرے اور احسان ہونے پر الحمد للہ کہے کیونکہ معرفت اور حقیقت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ سب سے اول خالق اسباب کا شکریہ ادا کیا جائے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ تقریر غالبا ۱۹۰۱ ء کے اخبار الحکم کی ڈائری میں بھی موجود ہے۔مقصد انبیاء علیہم السلام ایسا ہی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہِ عالی میں جب بعض لوگوں کی طرف سے دنیا وی و مقاصد کے حصول کے لئے دعا کی درخواست ہوتی اور ان کے خطوط موصول ہوتے تو حضور انور اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہم جس دنیا کو چھڑانے کے لئے آئے ہیں یہ لوگ وہی دنیا ہم سے مانگتے ہیں کاش ہمارے یہ دوست جو ہم سے دنیا کے متعلق دعا کراتے ہیں یہ اصلاح نفس اور