حیات قدسی

by Other Authors

Page 622 of 688

حیات قدسی — Page 622

۶۲۲ آخر میرے پاس آیا اور پگڑی اتار کر میرے قدموں پر رکھتے ہوئے بولا کہ خدا کے لئے آپ میری خطا معاف فرمائیں اور میرے ساتھ چلیں۔میری لڑکی کی بہت بری حالت ہے۔آخر جب میں نے دیکھا کہ اس کا نخوت اور غرور سے بھرا ہوا سر احمدیت کی چوکھٹ پر گر گیا ہے تو میں نے اس وقت رَبِّ كُلُّ شَيْء خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِی وَانْصُرْنِي وَارْحَمُنِی ایک کاغذ پر لکھا اور جاتے ہی پانی میں گھول کر اس مریضہ کو پلا دیا اور وہ لوگ جو اسے پکڑے ہوئے تھے انہیں کہا کہ اسے چھوڑ دو۔خدا تعالیٰ کا فضل اور احمدیت کی برکت ہے کہ اس پانی کے پیٹتے ہی وہ لڑکی بھلی چنگی ہو گئی اور وہ جن جو اپنے آپ کو سید احمد شاہ بتا تا تھا۔اسی وقت مجھے سلام کرتے ہوئے رخصت ہو گیا اور گاؤں کے بچے بوڑھے اور مردوزن سب کی زبان پر اس وقت یہی لفظ تھے کہ کرامت ہو تو ایسی ہو۔اور وہی امام دین جو پہلے بے حد مخالف تھا کہنے لگا کہ اگر آج کے بعد بھی میں مرزا صاحب کی شان میں کوئی گستاخی کروں تو پھر میرے جیسا بُرا آدمی کوئی نہ ہوگا۔افسوس ہے کہ ایسے بین ثبوت کے ہوتے ہوئے جو ان لوگوں کے نزدیک ایک خارق عادت کرامت تھی۔پھر بھی ان لوگوں کو احمدیت کے قبول کرنے کی سعادت نصیب نہ ہو سکی۔يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ 101 لاہور شہر کے دو واقعات ایسا ہی لاہور کے ایک احمدی دوست جو ملازمت کے سلسلہ میں شملہ میں رہائش رکھتے تھے ایک دفعہ میرے پاس آئے اور اپنی ہمشیرہ کی سرگذشت سنائی جو لاہور میں ہی بیا ہی ہو ئی تھی اور آسیب کے مرض میں مبتلا تھی۔انہوں نے بتایا کہ میں بہت سے عاملوں سے مایوس ہونے کے بعد آج آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔اس لئے اگر آپ سے کوئی چارہ جوئی ہو سکے تو بڑی مہربانی ہوگی۔چنانچہ میں ان کی فرمائش پر ان کے ساتھ ان کی ہمشیرہ کے گھر پہنچا اور جاتے ہی ایک پانی کے گلاس پر سورۃ فاتحہ، آیتہ الکرسی ، مینوں قل اور رب کل شیی خادمک رب فاحفظنی و انصرنی و ارحمنی اور بعض آیات پڑھ کر دم کیا اور اس پانی کا چھینٹا اس مریضہ کے منہ پر مارا۔اس مریضہ نے اسی وقت آنکھیں کھول دیں اور مجھے دیکھ کر کہنے لگی اوہو آپ بھی تشریف لے آئے ہیں اچھا ہوا کہ آپ کی زیارت ہوگئی۔فرمایئے کیا ارشاد ہے۔میں نے کہا یہی کہ اس مریضہ کو چھوڑ دو۔وہ معمول کہنے لگا۔آپ کے ارشاد کی تعمیل تو ضرور کروں گا کیونکہ آپ ہمارے بزرگ ہیں مگر جاتے ہوئے میں مریضہ کی