حیات قدسی — Page 619
۶۱۹ ان باتوں میں کوئی اچنبھا چیز نہیں ہے اور نہ کوئی بات عقل کے خلاف ہے۔بلکہ سوچنے سے معقول تشریح کا راستہ کھل سکتا ہے۔اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بعض اوقات غیر روحانی لوگ بھی علم توجہ میں کمال پیدا کر لیتے ہیں تو پھر انبیاء اور اولیاء کے معجزات اور کرامات کا کیا امتیاز باقی رہا۔سو اس کے متعلق اچھی طرح یا درکھنا چاہیئے کہ یہ امتیاز بہر صورت نمایاں طور پر قائم رہتا ہے اور ہمیشہ سے قائم رہا ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر توجہ کرنے والے نام نہا د ساحروں نے اپنی رسیوں اور جالوں میں اپنی توجہ کے ذریعہ ایک حرکت پیدا کر دی اور بظاہر یہ توجہ اپنے اندر ایک کمال کا رنگ رکھتی تھی۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصاء کے سامنے اس سحر کا تار و پود آن واحد میں تباہ و برباد ہوکر رہ گیا۔پس امتیاز اقتدار میں ہے یعنی بالمقابل کھڑے ہونے پر ہمیشہ خدا کے برگزیدہ لوگوں کو غلبہ حاصل ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا واقعہ ہے کہ ایک ہند و گجرات سے قادیان آیا۔وہ علم توجہ کا بڑا ماہر تھا اور اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں مرزا صاحب کے پاس جاتا ہوں اور توجہ کے زور سے ان سے ایسی حرکات کراؤں گا کہ ان کا سارا روحانی اثر مٹ جائے لیکن جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے آکر بیٹھا اور آپ پر توجہ ڈالنے کی کوشش کی تو چیخ مار کر بھاگ اُٹھا۔اور پوچھنے پر بتایا کہ جب میں نے مرزا صاحب پر توجہ ڈالی تو میں نے یوں محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک ہیبت ناک اور زبر دست شیر کھڑا ہے اور مجھے ہلاک کرنے کے لئے مجھ پر کود کر آ رہا ہے اس دہشت سے میں تیخ مار کر بھاگ آیا۔پس یہی وہ اقتدار ہے جو امتیاز پیدا کرتا ہے ورنہ توجہ کا علم ایسا ہے کہ اس میں مادی اور روحانی ہر دو قسم کے لوگ مہارت پیدا کر سکتے ہیں۔بہر حال حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم اور مخلص اور بزرگ صحابی ہیں۔ان کی توجہ اور دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نام نہاد آسیب زدہ لوگوں کے آسیب کو توڑ دیا اور انہیں شفا دے دی۔اور آسیب زدہ لوگوں کے دل