حیات قدسی — Page 602
۶۰۲ 83 درود شریف کا ماحصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا مطلب وہی ہے جو لفظ صلوٰۃ اور سلام سے ظاہر ہے۔صلوٰۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت حمید و مجید کے لحاظ سے جو درود شریف میں دعائے صلوۃ کی مناسبت سے لائی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حمد اور حسن ثناء اور آپ کی عظمت اور مسجد کے لئے درخواست کرنے کے معنوں میں ہے۔أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ان کے ارشاد باری میں صلوات کے معنے حسنِ ثناء بھی ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے متعلق ثناء اور تعریف کا اظہار ہوتا ہے۔اسی طرح آیت هُوَ الَّذِى يُصَلّى عَلَيْكُمْ وَ مَلَئِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إلَى النُّور کے ارشاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلوۃ سے مراد ایسی رحمت بھی ہے کہ جس کے ذریعہ انسانوں کو انواع و اقسام کی تاریکیوں سے نور کی طرف نکالا جاتا ہے ان معانی کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا مفہوم اور مطلب یہ ہوگا کہ سب مومن صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تسليماً ن کے ارشاد کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مخالفین اور کافرین کی مذمتوں اور غلط بیانیوں کے مقابل حسنِ ثناء اور مدح اور تعریف کی اشاعت کریں کیونکہ کا فر اور مخالف لوگ ا اپنے بُرے پراپیگنڈے سے ظلمات اور تاریکی کے پردے حائل کرنا چاہتے ہیں تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوت و رسالت کی اصلی اور خوبصورت شان کو دیکھ کر لوگ مسلمان نہ ہو جائیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جہاں مخالف لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر تاریکی کے پردے ڈال کر آپ کی اصل حقیقت کو چھپانا چاہیں تم مومن لوگ ان کے اعتراضات کی تردید اور ان کے غلط خیالات کا ازالہ کرتے ہوئے وہ سب تاریکی کے پردے ہٹا دو اور دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل حال اور حقیقی نور صداقت سے آگاہ کر دو۔تا ایک طرف تمہارے اس صلوٰۃ اور سلام سے آپ مخالفوں کی پیدا کردہ تاریکیوں سے باہر آ جائیں اور دوسری طرف محقق اور طالبانِ حق آپ کی اصل اور پُر حقیقت شان سے آگاہ ہو کر اس حق کو قبول کر کے نور حاصل کر لیں۔صلوٰۃ اور سلام کی چارفتمیں غرض مومنوں کا صلوۃ اور سلام چار رنگوں کا ہو سکتا ہے اول یہ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے