حیات قدسی

by Other Authors

Page 591 of 688

حیات قدسی — Page 591

۵۹۱ جب میں نے یہ بات وضاحت سے پیش کی تو مولوی صاحب کہنے لگے کہ ابنِ مریم تو کنیت اور کنیت قابل تاویل نہیں ہوتی اور حدیث میں نزول کا لفظ بھی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابنِ مریم آسمان پر ہیں اور وہاں سے نازل ہوں گے۔میں نے کہا کہ اول تو حضرت مسیح اسرائیلی کی وفات ثابت ہو جانے کے بعد نزول کا لفظ ان کے متعلق قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ آنے والے مسیح موعود کے متعلق ہے جو پہلے مسیح کی مماثلت میں امت محمدیہ میں آنے والا ہے۔اور دوسرے یہ بات کہ کنیت قابل تاویل نہیں ہوتی۔یہ بھی درست نہیں۔کیا قرآن کریم میں ابن اللہ ، ابناء اللہ ، ابن السبیل اور ابولہب کے الفاظ جو بطو رکنیت کے استعمال ہوئے ہیں ظاہری صورت پر محمول کئے جا سکتے ہیں اور کیا ان کی تاویل نہیں کی جاتی۔اور حدیث بخاری میں ابو سفیان اور ہر قل شہنشاہ روم کا جو مکالمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لکھا ہوا ہے اس میں ابوسفیان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق امر امر ابن ابی کبشہ 6 کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔اور آپ کی کنیت ابن ابی کبشہ بتائی ہے اور ابن ابی کبشہ اور ابی کبشہ دونوں کنیتیں قابل تاویل ہیں۔پھر حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ اُمکم يا بني ماء السماء 77 - يعنى حضرت ہاجرہ تمہاری ماں تھی اے آسمان کے پانی کے بیٹو۔پس عربوں کو بنی ماء السماء کی کنیت سے پکارنا ظاہری معنوں میں نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ عرب میں پانی کی قلت کی وجہ سے جہاں کہیں آسمانی پانی برستا عرب لوگ وہاں ڈیرے ڈال دیتے اور وہ پانی ان کی زندگی اور پرورش کا باعث بنتا۔اس کے لئے ان کو آسمانی پانی کے بیٹے کہا۔خو دا بو ہریرہ بھی کنیت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور یہ بھی تاویل کے قابل ہے۔لفظ نزل جوحدیث میں وارد ہے جس کا مصدر نزول ہے اور اسی سے نزیل مشتق ہے جس کے معنے مسافر کے ہیں۔اس تعلق میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وانزلنا الحديد (سوره) حدید ) یعنی ہم نے لو ہا نازل کیا اور انزل لكم من الانعام ثمانیه ازواج (زمر ا یعنی خدا نے کو تمہارے لئے آٹھ جوڑے چوپاؤں میں سے نازل کئے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انزلنا عليكم لباسًا يوارى سواتکم (اعراف) یعنی ہم نے لباس اتارا جو تمہاری شرمگاہوں کو ڈھانپتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وان مـن شيئ الا عندنا خزائنه وما نزله الا بقدرِ معلوم۔یعنی کوئی