حیات قدسی — Page 39
۳۹ خدائے ذوالجلال نے حضرت مسیح پاک کو فرمایا۔اگر تمام لوگ منہ پھیر لیں تو میں زمین کے نیچے سے یا آسمان کے اوپر سے مدد کر سکتا ہوں“ کارساز ما بفکر کار ما فکر ما در به ما آزار ما تائید ایزدی میری برادری میں سے میرے ایک چچا زاد بھائی میاں غلام احمد تھے ان کی کچھ جائداد موضع لنگہ ضلع گجرات میں بھی تھی۔ایک مرتبہ انہوں نے مجھے ایک تحریر کے کام کے لئے فرمائش کی جس کی تعمیل کے لئے میں ان کے ہمراہ موضع لنگہ چلا آیا۔گرمیوں کا موسم تھا اس لئے میں دو پہر کا وقت اکثران کے دالان کے پیچھے ایک کوٹھڑی میں گزارا کرتا تھا۔ایک دن حسب معمول میں دو پہر کو اس کو ٹھڑی میں سو رہا تھا۔میری آنکھ کھلی تو میں نے سنا کہ غلام احمد کی خالہ اور والدہ کہہ رہی تھیں کہ اس کے رسُولے ( غلام رسول ) کا ہمیں بڑا افسوس ہے کہ گاؤں گاؤں اور گھر گھر میں لوگ اس کی برائی کرتے ہیں۔اس نے تو مرزائی ہو کر ہمارے خاندان کی ناک کاٹ دی ہے۔اتفاق کی بات ہے کہ اس روز برابر کی کوٹھڑی میں بھائی غلام احمد بھی سویا ہوا تھا اس نے بیدار ہوتے ہی ان کی یہ مغلظات سنیں تو کہنے لگا تم کیا بکواس کر رہی ہو۔میں نے تو ابھی ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ غلام رسول پر آسمان سے اتنا نور برس رہا ہے کہ اس نے چاروں طرف سے اس کو گھیر لیا ہے۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ تم جسے براسمجھتی ہو وہ خدا کے نزدیک بُرا نہ ہو۔اتنے میں میں بھی کوٹھڑی سے باہر نکل آیا اور ان کو احمدیت کے متعلق سمجھاتا رہا مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔بلکہ یہی میاں غلام احمد جس پر اللہ تعالیٰ نے رویا کے ذریعہ سے اتمام حجت کر دی تھی میرا اتنا مخالف اور دشمن ہو گیا کہ علماء کو بلا کر بھی احمدیت پر حملے کراتا اور مجھے ذلیل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا۔آخر میرے مولا کریم نے میری نصرت کے لئے موضع را جیکی میں طاعون کے عذاب کو مسلط کیا اور غلام احمد اور اس کے ہمنواؤں کا صفایا کر دیا۔وبائے طاعون کے دوران میں تقویٰ و طہارت کو اختیار کرنے کی بجائے جب ان لوگوں نے یہ منصوبہ سوچا کہ اگر کوئی احمدی مرجائے تو نہ اس کی قبر کھودی جائے اور نہ اسے اپنے قبرستان میں دفن ہونے دیا جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود