حیات قدسی — Page 504
۵۰۴ یہ الزام جو سری کرشن جی پر لگایا جاتا ہے کہ گویا آپ نے مکھن چرایا۔یہ آپ کے مخالفین کی طرف سے جو ویدوں کے ماننے والے تھے، لگایا گیا ہے۔اور یہ بھی ایک مذہبی استعارہ ہے۔جس کی رُو سے اس علم کو جو خدا تعالیٰ کی کتاب شریعت میں ملتا ہے۔دودھ سے تشبیہ دیتے ہیں۔اور طریقت کی مثال دہی سے دیتے ہیں۔اسی طرح ” حقیقت، مکھن اور معرفت خالص گھی کو کہلاتی ہے۔اور یہ سب دودھ سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔جس طرح طریقت ، حقیقت اور معرفت سب شریعت سے ہی ملتی ہیں۔جب کرشن جی مہاراج نے ویدوں کی تعلیم کا خلاصہ گیتا کی شکل میں پیش کیا۔تو وید کے پنڈتوں کا نے کہا کہ گیتا کا اعلیٰ عرفانی کلام جو لوگوں کو دل پسند اور دلکش معلوم ہوتا ہے۔اور لوگ ویدوں کو چھوڑ کر گیتا کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔یہ دراصل دیدوں کا مکھن ہی ہے جو ویدوں سے چرا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔اس طرح کرشن جی پر مکھن چرانے کا الزام عاید کیا گیا لیکن اس سے مراد ظاہری مکھن کی چوری نہ تھی۔بلکہ ویدوں کی تعلیم کو اخذ کر کے گیتا میں شامل کرنا تھا۔کرشن جی کو ر ڈر گوپال کے صفاتی نام بھی دیئے گئے ہیں۔رڈر کے معنے سوروں کو قتل کرنے والا ، اور گوپال کے معنے گوؤں کی پالنا اور رکھشا کرنے والا ہیں۔ان الفاظ سے بدوں اور برے لوگوں کا نشٹ کرنے والا۔اور نیک اور فائدہ مند وجودوں کی حفاظت اور پرورش کرنے والا مراد ہے۔اور گیتا میں کرشن جی نے ایک پیشگوئی بھی فرمائی ہے۔کہ جب دھرم کی نیستی اور ادھرم کا دور دورہ ہوتا ہے۔تو میں اوتار لیتا ہوں۔اصل شلوک کا ترجمہ علامہ فیضی ( جو بادشاہ اکبر کے درباری تھے ) نے فارسی کے اس شعر میں کیا ہے۔گردد کیسے بنیاد دیں نمائیم خود بشكل را گسے جس طرح کرشن جی مہاراج نے پہلی دفعہ اصالتاً اس دنیا میں آکر نیکوں کی رکھشا اور بدوں کا ناش کیا ہے۔اور صحیح دھرم کو قائم کیا ہے۔اسی طرح اس زمانہ میں جب ادھرم اور پاپ کی گھٹائیں دنیا پر چھائی ہوئی ہیں۔کرشن جی صفاتی طور پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کے روپ میں قادیان میں تشریف لائے۔اور گیتا میں مذکور وعدہ پورا ہوا۔