حیات قدسی

by Other Authors

Page 484 of 688

حیات قدسی — Page 484

۴۸۴ کے دوران میں بھی دعا کرتا رہا۔اور جمشید پور سے روانگی کے وقت جب احباب جماعت جن میں جناب چوہدری صاحب بھی تھے، ہمیں رخصت کرنے کے لئے اسٹیشن پر موجود تھے۔میں نے ان کی صحت یابی کے لئے خاص طور پر دعا کی۔اس دعا کا خاص موقع اس لئے بھی پیدا ہوا کہ چوہدری صاحب نے ہمارے قیام جمشید پور کے دوران میں بہت اخلاص اور محبت کا ثبوت دیا۔اور پھر با وجود معذوری کے تکلیف اٹھا کر اسٹیشن پر بھی الوداع کہنے کے لئے تشریف لائے۔میری طبیعت اس کا حسنِ سلوک سے بہت متاثر ہوئی۔اور دعا کرنے کی طرف خاص طور پر توجہ پیدا ہوئی۔چنانچہ میں نے اجتماعی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور احباب کو بھی دعا کے لئے خاص طور پر توجہ دلائی۔ابھی دعا ہو رہی تھی کہ مجھ پر کشفی حالت طاری ہو گئی۔اور میں نے دیکھا کہ چوہدری محمد عبد اللہ صاحب کی ٹانگ بالکل درست حالت میں ہے۔دعا کا سلسلہ ختم ہونے پر میں نے اس کشف کا ذکر احباب کے سامنے کر دیا۔اور اس بنا پر مکرم چوہدری صاحب کو خاص طور پر امید دلائی کہ ہو سکتا ہے کہ اَرْحَمُ الرّاحِمِین خدا آپ پر فضل فرمائے۔اور شفایابی کی کوئی صورت پیدا فرمائے۔کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سامان ہوا کہ جناب چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب ( جو ان دنوں لندن میں تھے ) نے چوہدری محمد عبد اللہ خاں صاحب کو علاج کے لئے لندن بلایا۔اور وہاں پر بفضلہ تعالیٰ آپ کا کامیاب علاج ہو گیا۔اور حالتِ صحت میں آپ واپس تشریف لاۓ۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَىٰ ذَالِكَ احمدی جماعت خوش قسمت ہے کہ قبولیت دعا کے یہ شیریں اور تازہ پھل سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے ان کو میسر ہیں۔اور ان پر آسمانی فیوض کی بارشیں ہوتی رہتی ہیں۔ایک منذر کشفی نظارہ میں پشاور میں بسلسلہ تبلیغ مقیم تھا کہ اچانک مجھے کشفی طور پر دکھایا گیا کہ محترم نواب اکبر یار جنگ صاحب بہادر حج ہائیکورٹ حیدر آباد ( جو میرے نہایت ہی مخلص احباب میں سے ہیں) کے مکان کو آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اور آپ کے مکان کے متصل اور ساتھ کے صحن میں ایک بہت بڑی دیگ گوشت کی پک رہی ہے۔جس کے نیچے گیلا ایندھن جل رہا ہے۔اور بکثرت دھواں اٹھ رہا ہے اور وہ گوشت پکتا نہیں بلکہ کافی وقت گذرنے کے با وجود کچا ہی معلوم ہوتا