حیات قدسی — Page 475
۴۷۵ ایک عجیب واقعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جب رسالہ الوصیت شائع فرمایا۔اور اس میں اپنی وفات کے متعلق الہامات کے اندراج کے علاوہ جماعت کے لئے ضروری نصائح اور ہدایات بھی تحریر فرما ئیں تو اس میں حضور نے ایک یہ بات بھی تحریر فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی سنت کے مطابق دو قدرتیں دکھاتا ہے۔ایک قدرت نبی کے ذریعہ اور دوسری قدرت ثانیہ نبی کی وفات کے بعد خلافت کے ذریعہ اور آپ نے جماعت کے مخلصین کو یہ وصیت کی کہ وہ مل کر دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اس قدرت ثانیہ سے جماعت کو مستفید اور متمتع فرمائے۔الوصیت کے شائع ہونے کے بعد حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ معمول تھا کہ مسجد مبارک میں تقریباً ہر روز نماز کے بعد قدرت ثانیہ سے مستفید اور متمتع ہونے کے لئے احباب سے مل کر دعا کرتے۔ایک دن خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب چاروں جو صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ممبر تھے اور لاہور میں رہتے تھے۔انجمن کے اجلاس میں شرکت کے لئے حسب دستور لاہور سے آئے اور مسجد مبارک میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں نماز باجماعت ادا کی۔نماز کے بعد جب حضرت میر ناصر نواب صاحب حسب معمول ” قدرت ثانیہ کے لئے اجتماعی دعا کرانے لگے کہ اللہ تعالیٰ قدرت ثانیہ کے ظہور کے وقت اس کی برکات سے ہمیں مستفیض کرے تو یہ چاروں صاحبان مسجد سے اٹھ کر جانے لگے۔حضرت میر صاحب نے فرمایا " لاہوری بھائیو! آؤ مل کر قدرت ثانیہ کی برکات سے فیضیاب ہونے کے لئے دعا کریں۔انہوں نے جواباً کہا کہ حضرت میر صاحب ! قادیان والوں کو تو دعا کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے موقع دے رکھا ہے۔آپ دعا کیا کریں، ہمیں تو اور بھی کام ہیں۔ہم نے ان کو سرانجام دینا ہے۔میر صاحب نے فرمایا کہ دعا کام سے تو نہیں روکتی۔چند منٹ صرف ہوں گے، باقی سارا دن کام ہی کے لئے ہے لیکن وہ ممبران ہنستے ہوئے مسجد سے باہر چلے گئے اور دعا میں شریک نہ ہوئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جب قدرت ثانیہ کا ظہور ہوا تو افسوس ہے کہ یہی ممبران اور ان کے ساتھی حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام خلافت کے متعلق غیر مخلصانہ کارروائیوں کے مرتکب ہوئے اور بعد میں خلافت ثانیہ حلقہ سے کھلے بندوں