حیات قدسی — Page 471
۴۷۱ یه تعبیر سن کر وہ دوست کہنے لگے۔یہ بات تو کوئی زیادہ خوفناک نہیں۔میں نے تو یہ سمجھا تھا کہ واقع میں میرا مکان جل گیا ہے۔جب وہ گھر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی اہلیہ ایک ہمسایہ عورت سے لڑ جھگڑ رہی ہے اور ایک دوسری کو بد کلامی اور گالی گلوچ کی جارہی ہے اور یہ سلسلہ برابر دو دن سے جاری تھا۔اور بعض ہمسایوں کے روکنے سے نہ رکا تھا۔خیر! ان کے پہنچنے سے یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔اس کے چند دن بعد میاں کریم اللہ صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کی بیان کردہ تعبیر حرف بحرف پوری ہوئی ہے۔اور مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ تعبیر کس طرح سمجھ میں آئی۔میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم کی آیت كُلَّمَا اَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَاءَهَا الله کی رو سے لڑائی کو جو غیظ و غضب کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔آگ قرار دیا گیا ہے۔اور جب غیظ و غضب کی آگ دل کے اندر جو نیچے ہے مشتعل ہوتی ہے تو اوپر کی طرف زبان کی بد کلامی اور گالی گلوچ اس آگ کا دھواں ہے جو باہر کی طرف پھیل کر تکلیف کا باعث بنتا ہے۔اس کا علاج وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظ ان کے ارشاد پر عمل کرنے سے ہی ہو سکتا ہے۔میری یہ تعبیر و تشریح سن کر میاں کریم اللہ صاحب بہت محظوظ ہوئے۔خواجہ کمال الدین صاحب کی ایک رؤیا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عہد سعادت کے آخری ایام میں جبکہ حضور نے لاہور میں تین چار دن تک ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں قیام فرمایا۔ایک دن خواجہ کمال الدین صاحب نے میری موجودگی میں حضور اقدس علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں اپنی رؤیا سنائی کہ ” میں نے دیکھا کہ ہم جماعت کے کچھ آدمی ہتھکڑیوں کے ساتھ اسیرانِ سلطانی کی حیثیت سے ایک عدالت میں پیش کئے گئے ہیں۔جب ہم کمرہ عدالت میں پہنچے۔اور نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے کرسی عدالت پر حضرت مولانا نورالدین صاحب بطور حاکم کے تشریف فرما ہیں، حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ خواب سن کر فرمایا کہ خواب میں قید کو ثبات فی الدین کے معنوں میں لیا جاتا ہے جو حاشیہ محمد خواجہ کمال الدین صاحب کی اس خواب کا ذکر جناب چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب بالقابہ نے تفصیل کے ساتھ رسالہ ” فرقان“ کے خاص نمبر میں جو انہی کے مضمون پر مشتمل۔فرمایا تھا۔(خاکسار مرتب) ؟