حیات قدسی — Page 469
۴۶۹ جو یہ تھا:۔آگ از فردوس دل دلدار را یعنی دلدار کے دل کے لئے فردوس سے آگ کا ہونا ضروری ہے۔آپ نے تحریر فرمایا کہ اس کا ترجمہ تو بظاہر آسان ہے۔لیکن فردوس کے ساتھ آگ کی نسبت عجیب معلوم ہوتی ہے۔میں نے اس الہام کی جو تشریح حضرت مفتی صحاب کی خدمت میں بھجوائی وہ یہ تھی۔آگ دو قسم کی ہوتی ہے ایک دوزخ کی آگ جو کفر و شرک اور فسق و فجور کی سزا میں ملتی ہے۔دوسری فردوس کی آگ جو اللہ تعالیٰ کی محبت و عشق اور مخلوق خدا کی ہمدردی اور شفقت کے شدید جذبات سے تعلق رکھتی ہے۔خدا تعالیٰ نے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ا یعنی مومن اللہ تعالیٰ کے ساتھ شدید محبت کا تعلق رکھتے ہیں کے الفاظ میں اس کا نقشہ کھینچا ہے۔اسی طرح مخلوق کی ہمدردی اور و شفقت کے ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے عَزِیز عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات بہت گراں گزرتی ہے کہ لوگ تکلیف میں مبتلا ہوں اور آپ لوگوں کی بہبودی اور بہتری کے لئے بے حد حریص ہیں۔نیز خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ : یعنی کیا تو اس غم و فکر میں اپنی جان کو ہلاک کر دے گا کہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔یہی وہ آگ ہے جو صحیح توازن اور اعتدال کی صورت رکھتی ہے۔اور جو حرص نفس اور دنیا طلبی کی آگ سے دور ہے۔جو آگ حرص دنیا اور ارتکاب جرائم کی لذت کی آگ ہوتی ہے وہ انسان کو جہنم میں دکھیل دیتی ہے۔چنانچہ میں نے اس تشریح کے ساتھ حضرت مفتی صاحب کو لکھا کہ آپ چونکہ تبلیغی جہاد پر جارہے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس الہام کے ذریعہ کامیابی کا ایک عظیم الشان گر بتایا ہے یعنی فردوس والی آگ جو دل دلدار کے لئے ضروری ہے۔اس کو اپنے دل میں مشتعل کر کے تبلیغ کا کام شروع کریں۔یعنی ایک طرف اللہ تعالیٰ کی شدید محبت کا شعلہ دل میں مشتعل ہو۔اور دوسری طرف مخلوق خدا کی ہمدردی اور شفقت کا شدید جذ بہ جوش نما ہو۔اس طریق پر انشاء اللہ آپ کو ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔