حیات قدسی — Page 455
۴۵۵ ایک تازہ غیر مطبوعہ عارفانہ نظم عزیز مکرم جناب حکیم شاہد صاحب السلام علیکم۔ذیل کے چند اشعار جو فی البدیہ موزوں ہو گئے ہیں۔حصہ پنجم کے آخر میں یا جہاں مناسب معلوم ہوطبع کر کے ممنون اور من فرماویں۔غلام رسول را جیکی قدسی مشکور کر وہ عمل کہ جس کی جزا میں خدا ملے ہمت بلند کر کہ یہی مدعا ملے گر مل گیا خدا تجھے سب کچھ ہی مل گیا باقی وہ کیا رہے گا جو رب العلیٰ ملے گر ذوقی دید و وصل خدا چاہیئے تجھے کوشش سے کر دعا تجھے عشق خدا ملے جب تک کسی کو بھوک نہ ہو اور پیاس ہو کھانا لذیذ بھی ہو نہ اس سے مزا ملے ہر اک مرض کے واسطے خالق ہے خود دوا اے کاش اس علاج سے تجھ کو شفا ملے دنیا بدل رہی ہے تغیر سے روز و شب جو بے بدل ہے کاش وہ عین البقا ملے جو کچھ بغیر حق کے ہے باطل ہے جانِ من طالب تو حق کا بن کہ تجھے حق نما ملے عالم بے مثلِ آئینہ ربّ جہان کا جب آئینہ ہو صاف تو عکس صفا ملے ہے واجب الوجود ازل سے ابد تلک ممکن بھی ہے وجوب نما گر ہدا ملے دنیا میں یہ نظام شریعت بھی راز ہے قدرت کا ہر نظام بھی اس سے ہی آملے خلاصہ سبھی کائنات کا ہے سر کا ئنات جو عقده گشا ملے انسان ہے اک دائرہ کی شکل میں ہستی کا دور ہے جیسے کہ سر قدس سے قدوس آ ملے قدسی درخت ہستی اقدس کا ہے ثمر نقط انتہا ہی ہر ابتدا