حیات قدسی

by Other Authors

Page 441 of 688

حیات قدسی — Page 441

۴۴۱ سے آیا۔جس میں لکھا تھا کہ سیدہ حضرت ام طاہر حرم ثالث حضرت سید نا خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لئے دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحتیاب فرما دے انہیں لاہور کے ہسپتال میں بغرض علاج داخل کیا گیا ہے۔نیز ان کی صحت کے متعلق استخارہ کرنے کی فرمائش تھی۔دعا تو خاکسار اہل بیت کے لئے ان کے ہمدردانہ تعلقات کی وجہ سے پہلے ہی کر رہا تھا۔لیکن حضرت سیدی میاں بشیر احمد صاحب کی تحریک پر پہلے سے بھی زیادہ متضرعانہ دعائیں شروع کر دیں۔اسی سلسلہ میں ایک دن دعا کرتے ہوئے مجھ پر کشفی حالت طاری ہوئی۔اور میرے سامنے ایک کاغذ پیش کیا گیا جس پر قضاء و قدر کے احکام میں سے آخری حکم کے نفاذ کے متعلق ایک نظم میں اطلاع دی گئی تھی وہ ساری نظم تو بعد میں مجھے یاد نہ رہی صرف ذیل کا الہامی کلام یا در ہاے کسے نماند به دنیا کسے نہ خواہد ماند بجز خدا ئیکه باقی بماند و خواهد ماند اس کی دوسری قرآت بجائے ” کسے نماند بہ دنیا کے کسے نماند در نیجا کا فقرہ تھی۔چنانچہ خاکسار نے اس منذر الہام سے حضرت محترم مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کو اطلاع دے دی۔اس منذ رالہام میں علاوہ حضرت سیدہ ام طاہر کے حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات کی متعلق بھی اطلاع دی گئی تھی اور دونوں کی وفات کے درمیان چند ہی روز کا وقفہ وقوع میں آیا تھا۔دونوں کی وفات سلسلہ احمدیہ کے لئے شدید نقصان کا موجب تھی۔اس لئے کہ دونوں مقدس ہستیاں اہلبیت کے افراد سے تھیں۔اور اس لئے بھی کہ سلسلہ احمدیہ کی بیش بہا خدمات کی انجام دہی ان کے دونوں کے ساتھ وابستہ تھی۔ان حالات میں دونوں مقدس ہستیوں کی وفات کا حادثہ کوئی معمولی حادثہ نہ تھا۔اور یہ دونوں مقدس وجود آسمان رفعت کے کو کب دری اور ملت بیضا کے درمشین تھے۔اور دونوں کی وفات کا ذکر اس منذر الہام میں بطور اطلاع پیش کیا گیا تھا۔چنانچہ یہ فقرہ کہ کسے نماند در نیجا۔اس سے حضرت ام طاہر کی وفات کی طرف اشارہ تھا۔اور یہ فقرہ کہ کسے نخواهد ماند اس میں حضرت میر صاحب کی وفات کی طرف ایماء کیا گیا تھا۔میں نے ان دونوں کی وفات پر ایک مشترکہ مرثیہ بھی لکھا تھا جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔اس کے ابتدائی شعر مندرجہ ذیل تھے۔اننسى ذكــر مـجـدك أم طاهر اینسـى الـقـوم حبرا مثل اسحق و كلٌ مِنْهُمَــا قـد عـــاش بــارا بإصلاح و ايثار و اشفاق!