حیات قدسی — Page 431
۴۳۱ ہوگا۔اس پر مدعی نے عدالت کے کمرہ میں شور ڈال دیا کہ دیکھو جی ! کیا یہ عدالت ہے؟ کیا عدالت یوں ہی ہوتی ہے کہ مجرم کو بجائے سزا کے مدعی سے معافی دلوائی جائے۔ایسا عدل نہ کبھی سنا اور نہ دیکھا۔حضرت داؤد علیہ السلام کے بار بار سمجھانے پر بھی جب مدعی نے عدل عدل کی رٹ لگائی تو آپ نے فرمایا کہ بہت اچھا ہم عدل ہی کریں گے اور سپاہی کو حکم دیا کہ اس مدعی کو ہتھکڑی لگالی جائے۔اور فلاں میدان کی طرف کوچ کیا جائے۔وہاں پہنچ کر فرمایا کہ یہ قبر کس کی ہے اور اس کا قاتل کون ہے۔آپ نے چھری جس پر مدعی کا نام بھی لکھا تھا اور تاجر کے خون آلود کپڑے جو ساتھ ہی مدفون تھے ، کے متعلق سب کچھ گڑھا کھودنے سے قبل ہی بتا دیا اور یہ بھی بتادیا کہ یہ مدعی اس تاجر کا جو درویش کا باپ ہے، قاتل ہے۔جسے اس مدعی نے اپنی چھری سے سوئے ہوئے کو قتل کر دیا اور خدا نے مجھے سب کچھ بتا دیا اور دکھا دیا اور جیسے بتایا اور دکھایا اسی کے مطابق قبر سے چھری بھی نکل آئی اور خون آلود کپڑے بھی۔اور جس طرح دکھایا گیا تھا اسی طرح برآمد ہوا۔چنانچہ جب حضرت داؤد علیہ السلام نے مدعی قاتل کو قصاص کے طور پر قتل کی سزا کا حکم سنایا تو اس پر مدعی کہنے لگا جناب میں ملزم کو معافی دیتا ہوں اور مقدمہ کو واپس لیتا ہوں آپ بھی مجھے معاف فرمائیے۔حضرت نے فرمایا اب معافی نہیں دی جاسکتی اب وہی عدل جس کے متعلق ”عدل”عدل“ کے لفظ سے تو شور ڈالتا تھا، تمہارے ساتھ کیا جائے گا اور اسی کے مطابق عدالت کی کارروائی ہوگی۔اس کے بعد قاتل مدعی کو درویش کے تاجر باپ کے قصاص میں قتل کا آخری حکم سنایا گیا اور جس چھری سے تاجر کو قتل کیا گیا تھا اسی سے بعد اقرار جرم قاتل قتل کر دیا گیا اور جو کچھ مال و متاع اور مویشی اور روپیہ اور جائداد وغیرہ تاجر کی چیزیں اس کے نے غصب کی ہوئی تھیں۔سب کی سب اس درویش کو جو تاجر کا بیٹا اور حقیقی وارث تھا ، دیدی گئیں۔اس طرح با وجود اس معاملہ میں انتہائی پیچیدگی کے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر حق کھول دیا اور اپنی طرف سے صحیح انصاف فرما دیا اور ایک عابد زاہد مظلوم کی حق رسی فرمائی۔فریضہ کی تارک ایک دن۔۔۔۔۔نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ نے مجھے بھی تحریک فرمائی کہ میں کوئی حکایت آپ کو سناؤں۔چنانچہ آپ کے فرمانے پر میں نے بھی ایک حکایت لطیفہ کے طور پر