حیات قدسی

by Other Authors

Page 424 of 688

حیات قدسی — Page 424

۴۲۴ انتظام تو اس میں اور ٹھا کر دوارے میں رات بھر کے لئے پہلے سے ہی مہیا کیا ہوتا تھا۔جب میں نے دیکھا کہ شاہزادی جمع کئی سہیلیوں کے ہاتھوں میں شمعیں لئے ہوئے قریب پہنچ گئی ہیں۔تو میں بھی خدمت کے لئے حسب ہدایت مہنت صاحب نشست گاہ کی طرف لپکا اور ان کے پہنچنے پر انہیں نشست گاہ میں بٹھا کر عرض کیا کہ آپ اسی جگہ تشریف رکھیں اور باری باری ٹھا کروں کے درشن اور پوجا پاٹھ کے لئے ٹھا کر دوارے تشریف لائیں۔میں ٹھا کر دوارے جا بیٹھا اور انتظار کرنے لگا۔پہلے شاہزادی نے سہیلیوں کو باری باری بھیجا کہ تم جا کر درشن کر آؤ۔میں بعد میں جاؤں گی۔چنانچہ سہیلیوں میں سے ہر ایک باری باری سے پہنچتی گئی اور میں ایک ایک دو دو منٹ میں ان کو بھگتا کر واپس کرتا رہا۔چونکہ بیٹھک کا دروازہ قریب ہی تھا وہاں سے ان کی آواز سنائی دیتی۔جب کوئی سہیلی بیٹھک میں پہنچتی تو شاہزادی سے عرض کرتی کہ آج درشن کرانے والے بڑے مہنت نہیں۔کوئی ان کی جگہ دوسرا مہنت ہے۔بڑے مہنت تو بہت بوڑھے ہیں۔لیکن یہ مہنت تو بالکل جوان اور بڑی سند رشکل صورت کا ہے۔اس نے تو بہت ہی توجہ اور پریم کے ساتھ ٹھا کروں کے درشن کرائے ہیں۔ان کی یہ بات میں بھی سنتا جا تا۔آخر سب سہیلیاں جب ایک ایک کر کے درشن کر کے نشست گاہ میں واپس چلی گئیں تو میری محبوبہ اور جان کی جان شاہزادی بھی تشریف لے آئیں۔میں نے محبت بھرے دل کے ساتھ اور آداب بجا لا کر عرض کیا کہ اگر پہلے چند منٹ میری عرض بھی شاہزادی سن سکے تو میں کچھ عرض کر دوں۔شاہزادی نے فرمایا ہاں بڑی خوشی سے آپ فرما ئیں۔میں سن لیتی ہوں۔اس پر میں نے عرض کیا کہ آپ کو معلوم کیا ہے کہ میں کون ہوں۔شاہزادی نے کہا فرمائیے۔اس پر میں نے بجذ بہ عشق اشکبار آنکھوں کے ساتھ عرض کیا میں وہی ہوں جس کا دنیا میں آپ کے سوا کوئی محبوب نہیں۔پھر میں وہی ہوں۔جس کے عشق کے فسانے گھر گھر شہرت پاچکے ہیں۔اور میں طوفانی جذبات کے برانگیختہ ہونے پر شاہی محلات کے نیچے آپ کے ہاں محض آپ کے درشن اور دیدار کے لئے وہاں دھونی رمائے بیٹھا رہا۔آپ کے عشق کے محبوب ولولوں میں میں ہر قسم کی ملامتوں اور طعنوں اور بدنامیوں سے جذبات عشق کی آبپاشی کرتا رہا۔پھر میں وہی ہوں کہ دن بھر میں اس تلاش میں رہتا کہ جب بھی آپ ٹھا کر دوارے کی طرف نکلیں تو میں بجذ بہ عشق آپ کے قدموں کے کھوج سے اپنے دل کو جو آپ کی مہجوری سے ہر لحہ بے قرار رہتا۔مسرور اور اپنی آنکھوں کو آپ کے جمال کی مسرت اور فرحت سے منور کروں۔پھر میں وہی ہوں کہ جب آپ کو دن میں نکلنا ممنوع ہو گیا تو رات کو نکلنے پر