حیات قدسی

by Other Authors

Page 401 of 688

حیات قدسی — Page 401

۴۰۱ لئے اصرار کیا۔مہتہ صاحب نے کہا کہ موضع را جیکی کے غیر احمدیوں کی طرف سے ڈپٹی کمشنر کی خدمت میں درخواست دی گئی ہے کہ ہمیں احمدیوں کی طرف سے قتل کا خطرہ ہے۔اس لئے مجھے آج ہی پاہڑیاں والی پہنچنا ہے۔تاکہ تفتیش کر سکوں اس پر میاں پیر بخش صاحب نے مہتہ صاحب سے کہا کہ موضع را جیکی میں ایک احمدی مولوی غلام رسول صاحب بھی ہیں جو میرے دوست ہیں۔آپ ان کا خیال رکھیں۔چنانچہ مہتہ صاحب میرا نام نوٹ کر کے پاہڑیاں والی چلے آئے۔دوسرے دن صبح ہی صبح تھانیدارصاحب کا پروانہ آگیا کہ فریقین تھانے میں حاضر ہوں۔چنانچہ احمدیوں کی طرف سے میں اور میرے بھائی میاں شرف الدین صاحب اور میاں غلام حیدر صاحب رضی اللہ عنہ اور غیر احمدیوں کی طرف سے میاں غلام حسین صاحب اور میاں فضل حسین صاحب پاہڑیاں والی پہنچ گئے۔تھانیدار صاحب نے سب سے پہلے پوچھا تم میں مولوی غلام رسول صاحب کون ہیں؟ میں نے کہا فرمائیے۔کہنے لگے۔آپ کرسی پر بیٹھیں۔پھر غیر احمدیوں سے دریافت کیا۔آپ کی تعداد کتنی ہے۔انہوں نے جواب دیا ان چند احمدیوں کے سوا باقی سارا گاؤں ہمارے ساتھ ہے۔اس پر تھانیدارصاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا۔اور نہایت درشت لہجے میں کہنے لگے۔”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سارے گاؤں کو چند احمدیوں سے قتل کا خطرہ ہو۔یہ محض جھوٹ اور بہتان ہے۔بہر حال میں ضمنی کے کاغذات ڈپٹی دلباغ رائے کی عدالت میں بھیج دوں گا۔وہاں سے ہفتہ عشرہ تک سمن آجائیں گے فریقین مقررہ تاریخ پر کنجاہ حاضر ہو جائیں“۔کچھ دنوں کے بعد ہمارے نام سمن آگئے اور ہم ڈپٹی دلباغ رائے صاحب کی عدالت میں حاضر ہو گئے۔ڈپٹی صاحب نے فرمایا۔”میں احمدیوں کو خوب جانتا ہوں وہ امن پسند لوگ ہیں اور ہمیشہ مفسدانہ کاروائیوں سے مجتنب رہتے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ دونوں فریق صلح کر لیں۔ورنہ دو دو ہزار کی ضمانت دینی پڑے گی۔اور جو فریق ضمانت پیش نہیں کرے گا میں اس کو حوالات میں ڈال دوں گا“۔جب ہم عدالت کے کمرے سے باہر نکلے تو ملک عنایت اللہ صاحب احمدی مجھے میاں غلام حسین اور میاں فضل حسین کی موجودگی میں کہنے لگے مولوی صاحب! فکر کی کوئی بات نہیں ضمانت جتنی بھی دینی پڑے ہم دیں گئے۔جب دونوں بھائیوں نے دیکھا کہ احمدیوں کی مدد کے لئے تو کنجاہ سے ہی لوگو آپہنچے ہیں۔تو انہوں نے مجھے کہا کہ صلح کر لینی چاہیئے۔چنانچہ صلح نامہ لکھا گیا اور فریقین کے دستخطوں