حیات قدسی — Page 394
۳۹۴ (۳) مندرجہ ذیل خط سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے نام تمبر ۱۹۱۳ء میں پیر کوٹ تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ کے پتہ پر جہاں میرے سسرال ہیں موصول ہوا۔اس وقت میں بیمار تھا۔(اس بیماری کا ذکر دوسرے مقام پر آچکا ہے ) مگر می مولوی صاحب۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ آپ کا کارڈ ملا۔میں آپ کے لئے بہت دعا کرتا ہوں۔اور ایک عرصہ سے برابر کر رہا ہوں۔قریباً بلا ناغہ۔اور اللہ تعالیٰ سے بہت کچھ امید رکھتا ہوں۔لا ہوری فتنہ بیدار ہو رہا ہے اور آگے سے بہت زیادہ سختی سے۔گویا کوشش کی جاتی ہے کہ اس کام کو ملیا میٹ کر دیا جائے۔جو حضرت صاحب نے شروع کیا تھا۔آہ۔آہ۔آہ۔اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے اور فضل کرے۔اب کے جماعت کا کثیر حصہ ان کے ساتھ ہے۔میری نسبت طرح طرح کی افواہیں مشہور کی جاتی ہیں۔کہتے ہیں سلسلہ کا سب سے بڑا دشمن ہے کم سے کم إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ اهلیگ کا الہام ہی یا در کھتے۔پیغام صلح نے الفضل پر اعتراض بھی شروع کر دیئے ہیں۔خلیفتہ المسیح کے حکم سے ان سے جواب بھی مانگا ہے۔مداہنت اور ملمع سازی کو کام میں لایا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ رحم کرے۔میں ایک کمزور انسان ہوں۔اس قد رفساد کا روکنا میرے اختیار سے باہر ہے۔خدا کا ہی فضل ہو تو فتنہ دور ہو۔یہ وقت ہے کہ جماعت کے مخلص دعاؤں سے کام لیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے طالب ہوں۔شاید الفضل کا اس طرح اچانک نکلنا ہی ان حکمتوں پر مبنی تھا۔میاں عبدالرحمن صاحب کو بھی میری طرف سے السلام علیکم اور جزاکم اللہ پہنچا دیں (میاں عبدالرحمن صاحب سے مراد میرے برادر نسبتی ہیں )۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد