حیات قدسی — Page 372
۳۷۲ کے بیان کردہ حقائق کی روح القدس کی طرف سے تائید ہونی چاہیئے۔اور وصالِ الہی کی وہ سب علامات جو قرآن کریم سے ثابت ہوتی ہیں اس میں نمایاں طور پر پائی جانی چاہئیں۔الغرض ایک واصل باللہ اپنی جان، مال، عزت وقت غرضیکہ ہر چیز کی قربانی اپنے محبوب مولیٰ کے حضور پیش کر دیتا ہے۔اور اس قربانی میں انتہائی لذت محسوس کرتا ہے۔اسی طرح جیسے ایک مرد مخصوص تعلقات کے وقت انسانی جو ہر کو جو اس کے وجود کا خلاصہ ہے انتہائی لذت کے ساتھ قربان کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جن علامات کا ظہور اس کے واصل بندے کے لئے ہوتا ہے۔ان میں سے اس کی دعاؤں کی قبولیت ، دشمنوں کے مقابل پر خدا تعالی کی نمایاں نصرت اور تائید ، غیب پر اطلاع اور شرفِ مکالمہ و مخاطبہ کا حصول ہے۔موجودہ زمانہ میں ہم نے واصلانِ خدا کا نمونہ حضرت اقدس مسیح محمدی علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بابرکت وجودوں میں خاص طور پر مشاہدہ کیا ہے۔قلند ر اور اس کی تشریح ایک دفعہ قلندر کے لفظ کے متعلق مجھ سے دریافت کیا گیا کہ اس کی اصلیت کیا ہے۔میں نے کہا کہ مشہور تو یہ ہے کہ قلند ر فقیروں کی ایک قسم ہے۔جو بظاہر رندانہ طرز رکھتے ہیں۔اور باطن میں محبت الہی سے سوختہ اور قلب صافی کے حامل ہوتے ہیں۔ہندوستان میں حضرت شاہ شرف بوعلی قلند رمشہور ولی اللہ ہوئے ہیں۔جن کا مزار پانی پت میں ہے۔پانی پت کے متعلق ایک مرموز کلام بھی مشہور ہے۔جو حضرت شاہ شرف قلندر کے کسی سیالکوٹی مرید نے کہا ہے اور وہ یہ ہے کہ یارمن در آب عزت مانده است من غریبم در زمستان حصار یعنی میرا محبوب تو آب عزت یعنی پانی پت میں رہتا ہے اور میں زمستانِ حصار یعنی سیالکوٹ میں رہتا ہوں۔میرے خیال میں لفظ قلندر کا ماخذ عربی ہے۔اور لفظ قل اور ندَرُ سے مرکب معلوم ہوتا ہے۔اس کے معنی ایسے فقیر اور ولی اللہ کے ہیں جن کا وجود دنیا میں بہت قلیل اور نادر ہو۔