حیات قدسی

by Other Authors

Page 16 of 688

حیات قدسی — Page 16

اس زمانہ کا ذکر ہے کہ مثنوی کے بعض مشکل مقامات جن کی تفہیم مجھے مولوی صاحب موصوف سے نہ ہوسکتی وہ مقامات حضرت مولانا روم علیہ الرحمہ مجھے خود آ کر سمجھا جاتے۔چنانچہ ایسے ہی مواقع پر تقریباً سات آٹھ مرتبہ رویا وکشوف میں مجھے آپ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے ان مقامات میں سے ایک مقام مثنوی کے سب سے ابتدائی شعر کا بھی تھا۔جس میں مولانا روم علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے کہ۔بشنواز نے چوں حکایت می کند و از جدائیها شکایت می کند اس شعر کے لفظ ” نے کی تشریح سے جب میری مولوی امام الدین صاحب سے تشفی نہ ہوئی تو مولانا روم علیہ الرحمہ نے خود تشریف لا کر مجھے سمجھایا کہ ” نے“ سے واصل باللہ انسان مراد ہوتا ہے جو وصال الہی کے بعد نبی ورسول کا مرتبہ حاصل کر کے مخلوق کی طرف مامور کیا جاتا ہے تا کہ بھٹکی ہوئی روحیں جن کی خدا سے جدائی کا وہ شاکی ہے انہیں وصال الہی کی منزل مقصود تک پہنچائے۔پس نے سے مراد ہر ایک واصل باللہ انسان نہیں بلکہ نبی و رسول ہے جسے ایک طرف وصال الہی بھی حاصل ہوتا ہے اور جو دوسری طرف وہ مخلوق کی خدا سے جدائی میں لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ کا مقام بھی رکھتا ہے۔میری بیعت کی تقریب موضع گولیکی میں مثنوی مولانا روم پڑھتے ہوئے جب میں چوتھے دفتر تک پہنچا تو ایک دن ظہر کی نماز کے بعد میں اور مولوی امام الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے کسی مسئلہ کے متعلق گفتگو کر رہے تھے کہ حسن اتفاق سے پولیس کا ایک سپاہی نماز کے لئے اس مسجد میں آ نکلا۔مولوی صاحب نے جب اس کے صافہ میں بندھی ہوئی ایک کتاب دیکھی تو آپ نے پڑھنے کے لئے اسے لینا چاہا مگر اس سپاہی نے آپ کو روک دیا۔مولوی صاحب نے وجہ دریافت کی تو اس نے کہا کہ یہ کتاب جس بزرگ ہستی کی ہے وہ میرا پیشوا ہے۔ہو سکتا ہے کہ تم لوگ اسے پڑھ کر میرے پیشوا کو بُرا بھلا کہنے لگ جاؤ جسے میری غیرت برداشت نہیں کر سکے گی۔مولوی صاحب نے کہا کہ آپ بے فکر رہیئے ہم آپ کے پیشوا کے متعلق کوئی بُر الفظ زبان پر نہیں لائیں گے۔تب اس سپاہی نے کہا کہ اگر یہ