حیات قدسی — Page 277
۲۷۷ خدا کے مقدس اور برگزیدہ ماموروں کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے۔وہ خدائی گرفت میں بھی آتا ہے اور حضرت مرزا صاحب کے ساتھ تو خدا تعالیٰ کا خاص وعدہ ہے۔کہ إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ اَرَادَ اهانتگ۔یعنی جو آپ کی اہانت کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کی غیرت ہے جو وہ اپنے پاک مسیح کے لئے رکھتا ہے۔یہ سن کر چوہدری صاحب کہنے لگے۔کہ تمہیں کچھ طاقت حاصل ہے تو میرا کچھ بگاڑ کر دکھاؤ“۔میں نے عرض کیا کہ میں تو آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔لیکن اگر آپ کی یہی خواہش ہے تو اس کو پورا کرنے والی ایک ہستی ایسی ہے جو اپنی حکمت اور مصلحت سے ایسا بھی کر سکتی ہے۔اس پر چوہدری صاحب اونچی آواز سے دشنام طرازی کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کہ " اس میرزائی کا فر کو میں کیا سمجھتا ہوں اور یہ کیا چیز ہے۔وہاں سے چلے گئے۔اہانت کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ اس اہانت آمیز گفتگو کے چند روز بعد چوہدری صاحب مذکور لاہور گئے۔اور وہاں جاتے ہی ایک طوائف کے چنگل میں پھنس گئے۔اور اس کو طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر اپنے گاؤں موضع چکریاں میں لے آئے۔وہ عورت کچھ عرصہ تک وہاں رہی اور چوہدری فضل داد کی عزت و دولت بر باد کر کے واپس لاہور چلی گئی۔جو خطیر رقم ادھر اُدھر سے اکٹھی کر کے چوہدری فضل داد نے اس عورت پر خرچ کی تھی اب اس کی واپسی کا تقاضا شروع ہوا۔اور ان کے خلاف مقدمہ کی صورت پیدا ہوگئی یہاں تک کہ اس ذلت آمیز حالت میں ان کو اپنے آبائی وطن سے روپوش ہونا پڑا۔اور وہ جائداد جس پر ان کو بڑا ناز تھا کچھ اس ساحرہ نے لوٹ لی۔اور باقی مقدمات کی نذر ہو گئی۔غرضیکہ وہ تھوڑے ہی عرصہ میں ہر طرح کی ذلت اور نکبت کا شکار ہو گئے۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ جماعت احمدیہ کا مقام اس کے ایک عرصہ بعد جب میں لاہور میں قیام رکھتا تھا اور ان دنوں جناب چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب بالقا بہ مجھ سے تفسیر فوزالکبیر، تفسیر بیضاوی اور حجتہ اللہ البالغہ پڑھا کرتے تھے تو میں نے ایک رات رؤیا میں دیکھا کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مجھ سے اپنی تفسیر