حیات قدسی — Page 204
۲۰۴ زیارت حضرت باری تعالیٰ بیماری کے ان ہی ایام میں جب شدت مرض سے میری حالت بہت نازک ہو گئی اور میرے معالج برادر حکیم محمد حیات صاحب بہت گھبرا گئے اس وقت مجھے علاوہ بخار کے اعصابی دردوں کا عارضہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ زبان سے بات کرنا مشکل ہو گیا اور استرخاء سے ہر وقت زبان و کے مختلف حصوں میں اضطرابی کیفیت نمایاں تھی۔حکیم صاحب نے میری حالت کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا کہ میں چوبیس گھنٹہ سے زیادہ زندہ نہ رہ سکوں گا۔یہ رائے قائم کرنے کے بعد برادرم حکیم صاحب ایک فوری ضروری کام کے لئے گوجرانوالہ چلے گئے اور مجھے خدا تعالیٰ کے سپر د کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کر نے لگے کہ اب انسانی کوششیں بے کار ہیں۔رات میری اسی حالت میں گذری۔جب دوسرا دن آیا تو نماز ظہر وعصر کے درمیان مجھ پر حالت طاری ہو گئی۔میں نے دیکھا کہ میں ظہر کی نماز ادا کر رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ ہاں خیر الراحمین مشفى اور خير المحسنين اللہ میرے سامنے معلوم ہوتے ہیں۔اسی حالت میں میں نے معاً ایک دوسرا نظارہ دیکھا کہ جزائر انڈیمان ( جہاں پر انگریزی حکومت عمر قیدیوں کو بھجوایا کرتی تھی ) میں قیامت قائم ہوئی ہے اور میں بھی میدان قیامت میں کھڑا ہوں اور میرے اردگرد چند قدموں کے فاصلہ پر لو ہے کے تین سنگل مجھے گھیرے ہوئے ہیں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ وہاں تشریف لے آئے ہیں۔میں نے اللہ تعالیٰ کے قریب آنے پر اس ذات یگانہ کو جناب ماسٹر عبدالرحمن صاحب سابق مہر سنگھ ( مرحوم و مغفور) کی شکل پر متمثل پایا۔اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری تکلیف اور شدت مرض کے پیش نظر جذ بہ رحمت و رافت سے میری طرف متوجہ ہیں۔میں نے اپنے محسن اور رؤف و رحیم و مولیٰ کے حضور نہایت عاجزی اور مسکینی کے لہجہ میں عرض کیا کہ حضور میرے اردگرد یہ تین سنگل مجھے گھیرے ہوئے ہیں اور باہر نہیں نکلنے دیتے۔حضرت رب العالمین میری اس عرضداشت سے اور بھی زیادہ رحمت اور رافت سے میری طرف متوجہ ہوئے اور نہایت ہی لطف و کرم سے فرمایا۔”ہم ابھی ان سنگلوں کو پکڑ کر دور پھینک دیتے ہیں۔چنانچہ چشم زدن میں میرے رؤف و رحیم خدا نے ان سنگلوں کو دور پھینک دیا اور فرمایا دیکھو ہم نے ان کے