حیاتِ نور

by Other Authors

Page 65 of 831

حیاتِ نور — Page 65

ـور ۶۵ دوسرا باب مراجعت وطن عملی زندگی کا آغاز اور ملازمت مہاراجہ جموں و کشمیر سالہا سال اپنے محبوب وطن سے دُور رہ کر دینی اور طبی تعلیم کی تکمیل کے بعد واپسی کے ارادہ سے آپ مکہ معظمہ سے عازم بھی ہوئے۔اب آپ جوان تھے اور عملی زندگی میں قدم رکھ رہے تھے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ آپ کا حلیہ بیان کر دیا جائے۔حلہ مبارک آپ کا رنگ گندمی تھا۔قد لمباء، داڑھی اس قدر گھنی کہ آنکھوں کے حلقوں تک بال پہنچے ہوئے تھے۔شکل وصورت کے نہایت وجیہہ تھے۔بیوہ عورتوں کا نکاح نہ کرنے کی خرابیاں پھیلی پہنچنے پر آپ کو اپنے وطن کے حاجیوں کا ایک جوڑ ا ملا۔جسے آپ نے مکہ معظمہ میں بھی دیکھا تھا۔وہ دونوں میاں بیوی بہت شریف معلوم ہوتے تھے۔چونکہ انہوں نے آپ سے اس امر کا اظہار کیا کہ ہم آہستہ آہستہ سمندر کے راستے ملک کو جائیں گے۔اس لئے آپ نے انہیں کہا کہ میں چونکہ ریل کے راستہ چلا جاؤں گا اس لئے اگر تمہارا کچھ اسباب ہو یا تم کو اپنے گھر والوں کو کوئی پیغام دینا ہو تو مجھ کو دیدو۔آپ فرماتے ہیں کہ میری یہ باتیں سنکر وہ عورت سر سے کپڑا اتار کر میرے پاؤں پر گر پڑی اور کہا کہ صرف آپ کی مہربانی یہ ہے کہ ہمارا پتہ اُس ملک میں کسی کو نہ دیں۔میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ بات کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میں ایک شریف عورت ہوں۔کم عمری میں بیوہ ہو گئی اور ہمارے یہاں بوجہ شرافت کے بیوہ کا نکاح نہیں کرتے اور یہ بزرگ پیری مریدی کرتے ہیں۔ہمارے پڑوس میں اُن کے مرید رہتے ہیں۔میں نے ان سے مخفی طور پر نکاح کر لیا جس کی خبر ہمارے گھر والوں کو نہیں۔اس