حیاتِ نور

by Other Authors

Page 711 of 831

حیاتِ نور — Page 711

کہ میرے اکثر احباب اس کی بیعت کر لیں گے اور فساد سے جماعت محفوظ رہے گی۔چنانچہ ایک دن عصر کے بعد جبکہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جو ہماری جماعت کے سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہیں۔میرے ساتھ سیر کو گئے تو تمام سیر میں دو گھنٹے کے قریب ان سے اسی امر پر بحث ہوتی رہی اور آخر میں نے ان کو منوالیا کہ ہمیں اس بات کے لئے پورے طور پر تیار ہونا چاہئے کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو تو ہم ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔۳ رہا خصوصیات کا سوال۔سو ان میں جیک خلیفہ کوئی حکم نہ دے گا۔ہمیں اجازت ہوگی کہ جس چیز کو ہم حق و صداقت یقین کرتے اور منشاء شریعت سمجھتے ہیں قائم کرنے اور قائم رکھنے کی کوشش کریں۔البتہ اگر خلیفہ بھی حکم دے کر ہمیں روک دے تو اس کا حکم ماننا اور فرمانبرداری کرنا ہمارے لئے ضروری ہوگا اور اس حال میں پھر سلسلہ کا خدا حافظ ہوگا۔ہم خاموش رہیں گئے“۔۳۸ اپنی اہلیہ محترمہ کو حضور کی وصیت ـور وفات سے ایک دو روز پہلے حضرت خلیفہ امسح الاول نےاپنی اہلیہ محترمہ کوایک کاغذ پر کچھ لکھ کر دیا اور فرمایا کہ اسے پھر پڑھنا۔دین و دنیا کے خزائن کی چابی ہے۔آپ کی وفات کے بعد اسے کھولا گیا تو اس میں لکھا تھا: 1۔پانچ وقت نماز کی پابندی رہے۔شرک سے نفرت تامہ ہو۔جھوٹ ، چوری، بدنظری، حرص و بخل ، عدم استقلال، بزدلی، بے وجہ مخلوق کا خوف تم میں نہ ہو بلکہ اس کی جگہ پابندی نماز، وحدة البسيه، صداقت ، عفت غض بصر ، ہمت بلند ، شجاعت، استقلال میں اللہ کے فضل سے ترقی ہو۔آمین۔۳۹ نوٹ: حضرت خلیفہ المسیح الاول کی زوجہ محترمہ اماں جی کے نام سے مشہور تھیں۔آپ کی وفات ۲ ، ۷ اگست ۱۹۵۵ء کی درمیانی شب ساڑھے بارہ بجے قریباً ۸۴ سال کی عمر میں ہوئی۔ان کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جو نوٹ لکھا اس میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے مقام اور مرتبہ کا ذکر ہے۔ذیل میں اسے درج کیا جاتا ہے: