حیاتِ نور — Page 692
ـور یہ بچہ ۹ رجون ۱۹۱۴ء کو وفات پا گیا۔۶۸۷ جلسه سالانه ۱۹۱۳ء، ۲۵-۲۶ - ۲۷ / دسمبر ۱۹۱ء کا جلسہ سالانہ اپنے انوار و برکات کے لحاظ سے گزشتہ تمام سالوں سے بڑھ گیا۔تقاریر بھی بہت اچھی ہوئیں۔جماعت بھی بہت بڑی تعداد میں مرکز میں جمع ہوئی اور اخلاص اور ایثار کا وہ نمونہ پیش کیا کہ دشمن کو محسوس ہو گیا کہ جماعت میں انتشار اور بدنظمی پیدا کرنے کی جو کوشش اس نے کی تھی۔وہ خاک میں مل گئی۔حضرت خلیفہ المسیح اول نے جہاں اپنی جماعت کو دشمنوں کی سازشوں سے آگاہ کیا۔وہاں دشمن کو بھی متنبہ کیا کہ وہ اپنے منصوبوں سے جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔چنانچہ آپ اپنی تقریر میں فرماتے ہیں: معاہدات کی رعایت بڑی بات ہے۔میں تمہارے معاہدات کا ایک ورق پیش کرتا ہوں۔غور تو کرو۔تم کہانتک اس کی مطابقت و حفاظت کرتے ہو۔ایک تو وہ معاہدہ ہے جو تم میرے ہاتھ پر کرتے ہو۔پھر تم ہی میں سے وہ بد بخت بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ خلیفہ کیا چیز ہے بڑھاپے کی وجہ سے ہوش ماری گئی۔دیکھو ! سنو اور یا درکھو۔مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ خلیفہ بنایا ہے اور میں تم میں سے کسی کا بھی خدا کے فضل سے محتاج نہیں۔اور میں نے اس سے دعا کی ہے کہ مجھے ارذل العمر کے نتائج سے محفوظ رکھے۔اور اس نے رکھا ہے۔اپنے کلام کا فہم مجھے عطا فرمایا ہے۔یہ باتیں خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ہیں۔وہ میرے لئے ایک غیرت رکھتا ہے۔اس واسطے ایسے خیالات سے تو بہ کرو۔اس نے میرے قومی کو ہر طرح سلامت اور محفوظ رکھا ہے۔والحمد للہ علی ذالک۔پھر فرماتے ہیں: امن یا خوف کی کوئی بات تم پھیلانے کے مجاز نہیں۔بلکہ اسے اپنے امیر اور سرکردہ کے پہنچا دو۔وہ جو مناسب سمجھے گا کرے گا۔دیکھو جس شخص نے اظہار الحق کے دو نمبر نکالے اور جنہوں نے کھلی چٹھی انصار اللہ کے نام شائع کی اور جنہوں نے خلافت کے متعلق مباحثہ کیا۔ان کا کوئی حق نہ تھا۔اس کھلی چٹھی نے تو میرے دل کو کھولدیا۔ایسا ہی ایک شخص نے ایک چھپا ہوا کارڈ میرے پاس بھیجا اور پوچھا کہ اشاعت کی اجازت دیتے ہو۔میں نے کہا۔کمبخت! تو نے قرآن